پبلک سروس کمیشن…مگر پبلک کی خدمت کہاں؟

0

 

تحریر:۔سجاد جرال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آزاد جموں و کشمیر کا پبلک سروس کمیشن وہ ادارہ جسے میرٹ کا محافظ، اہلیت کا علمبردار، اور ریاستی نظم و نسق کا بنیاد گزار سمجھا جانا چاہیے۔بدقسمتی سے اپنی روح کھو چکا ہے۔ یہ ادارہ اب فقط اشتہارات، التوا، شکوے اور خاموشی کی ایک سرکاری فائل بن کر رہ گیا ہے۔
جن نوجوانوں نے علم و ہنر کے چراغ جلائے، جو امید کے دیے لے کر امتحانی مراکز کی طرف لپکے، وہ آج ناامیدی، دھوکہ اور ادارہ جاتی منافقت کی راکھ اٹھائے بیٹھے ہیں۔
یہ وہی ادارہ ہے جس کا قیام 1976ء میں اس لیے عمل میں لایا گیا تھا کہ ریاست کے بیوروکریٹک ڈھانچے کو قابلیت، امانت و دیانت کے سانچے میں ڈھالا جا سکے۔ مگر اب میرٹ، شفافیت اور اہلیت جیسے الفاظ فقط پریس ریلیزوں کی زینت بن کر رہ گئے ہیں۔
شفافیت کا جنازہ،انٹرویو کی رسمِ تعزیت ،تحریری امتحانات میں شفافیت کا وہی حال ہے جو اندھیر نگری میں انصاف کا ہوتا ہے۔ امیدواروں کو نتائج کی تفصیل تو درکنار، انٹرویو کے نمبرز کے پیچھے چھپے غیر مرئی ہاتھ بھی دکھائی نہیں دیتے، مگر محسوس سب کو ہوتے ہیں۔ انٹرویو اب قابلیت کی جانچ نہیں، تعلقات کی تنصیب کا نام بن چکا ہے۔
امتحانی نتائج گویا کسی قفل زدہ الماری میں رکھے جاتے ہیں جن تک امیدواروں کی رسائی ایک خواب ہے۔جبکہ انٹرویوز اکثر ایسے طے پاتے ہیں جیسے بارات میں برتن گنے جا رہے ہوں۔مختصر، سرسری، اور غیر سنجیدہ۔
سیاسی سفارش میرٹ کا قبرستان
میرٹ کا قتل صرف ایک زیادتی نہیں، یہ اجتماعی ناانصافی کا وہ خنجر ہے جو نوجوانوں کی ریڑھ میں پیوست کیا جا رہا ہے۔ بااثر افراد کی سفارشات، سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر انٹرویو میں دیے گئے من پسند نمبرز، اور میرٹ لسٹوں میں کی جانے والی جراحی، انصاف کے پورے نظام کو داغدار کر چکی ہے۔

یہ وہ کلچر ہے جہاں "جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس” کا محاورہ صرف دیہات میں نہیں، ریاستی دفاتر میں بھی رواں دواں ہے۔
تاخیر، بدنظمی اور نااہلی… تین سائے جو PSC پر چھائے ہیں
آزاد کشمیر کا نوجوان ایک اشتہار پڑھ کر دو سال انتظار کرتا ہے۔ امتحان ہوتا ہے، پھر ایک طویل خاموشی۔ نتیجہ آتا ہے، تو وہ متنازعہ۔ انٹرویو ہوتا ہے، تو وہ مشکوک۔ اور میرٹ لسٹ؟ تاخیر کا شکار یا بے بنیاد۔
اس سست روی کا خمیازہ صرف وقت کا ضیاع نہیں بلکہ ذہنی اذیت، اعتماد کا انحطاط اور ریاستی اداروں سے نفرت کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔
ٹیکنالوجی کا استعمال؟ صرف نام کی ڈیجیٹلائزیشن
ڈیجیٹل دور کی دہلیز پر کھڑی یہ ریاستی مشینری، آج بھی فائلوں کے انبار میں دفن ہے۔ PSC کی ویب سائٹ کا حال ایسا ہے جیسے کسی پرانی کتاب پر دھول جمی ہو۔ اپلائی کرنے کا نظام ناقص، معلومات کی رسائی محدود، اور نتیجہ کے روز ویب سائٹ کا کریش ہو جانا معمول کی بات۔
گویا ٹیکنالوجی کو اپنانا نہیں، بس دکھانا مقصد ہے۔
خودمختاری کا پردہ، مگر پیچھے حکومتی چہرے
یہ ادارہ آئینی طور پر تو خودمختار ہے، مگر عملی طور پر اسے وہی ہانکتا ہے جو حکومت کے ایوانوں میں بیٹھا ہے۔ چیئرمین اور ممبران کی تعیناتی میں شفافیت کا وہی عالم ہے جو دھند میں چراغ کی روشنی کا۔ بجٹ محدود، اختیار مقید، اور فیصلے متاثر—ایسے میں خودمختاری محض آئینی الفاظ کا فریب بن جاتی ہے

2005 تا 2024 کامنظرنامہ
دو دہائیوں میں محض چار امتحانات؟ کیا اس ریاست میں صرف یہی چند آسامیاں تھیں؟
سیکشن آفیسر، اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر اہم عہدوں پر بھرتی کے عمل کا تعطل، ریاستی سست روی اور محکمانہ غیر سنجیدگی کا کھلا ثبوت ہے۔ جس نظام سے نوجوانوں کو روزگار ملنا تھا، وہ اب فقط عدالتی سٹے، پروموشن تنازعات اور ‘کام چلاو’ رویوں کی نذر ہو چکا ہے۔
ریاستی ڈھانچے کی جڑوں کو چاٹتا زہر
اس بحران کا نتیجہ صرف نوجوانوں کی مایوسی نہیں، بلکہ پورے گورننس سسٹم کی زبوں حالی ہے۔ میرٹ کی عدم موجودگی نے فیصلہ سازی کو مفلوج، پالیسیوں کو بے جان، اور سروس ڈیلیوری کو بے اثر کر دیا ہے۔ ریاستی ادارے عوام کے اعتماد سے محروم، اور نظام عدلیہ کے کندھوں پر بوجھ بن چکے ہیں۔

اس نازک موڑ پر چند سنجیدہ اور فوری اصلاحات ناگزیر ہیں:
ہر سال تمام محکمہ جات جنوری میں خالی آسامیوں کی ریکوزیشن جمع کروائیں۔
قانون سازی کے ذریعے سالانہ امتحانات کا لازمی انعقاد طے کیا جائے۔
عدالتی تنازعات کے لیے فاسٹ ٹریک بنچ تشکیل دیے جائیں۔
میرٹ ریکروٹمنٹ اور پروموشن کا تناسب برقرار رکھا جائے، نہ کہ ایک کو دوسرے کا نعم البدل بنایا جائے۔

چیئرمین و ممبران کی تقرری صرف قابلیت اور تجربے کی بنیاد پر ہو، سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نہیں۔
نوجوانوں کو اصلاحاتی عمل میں شامل کیا جائے تاکہ نظام پر ان کا اعتماد بحال ہو۔
ایک ریاست اگر اپنے نوجوانوں کو صرف کاغذ، درخواست اور انٹرویو کے سراب میں الجھاتی رہے تو نہ صرف وہ نسل ضائع ہوتی ہے، بلکہ ریاست کا وجود بھی سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن کی تطہیر وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ اگر آج اس ادارے کو شفاف، فعال اور خودمختار نہ بنایا گیا تو کل یہی ادارہ ریاستی زوال کی علامت بن کر تاریخ کے صفحات پر ثبت ہوگا۔
ایک آواز ہے…تبدیلی کی، انصاف کی، اور امید کی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.