اسلام آباد میں میڈیکو لیگل قانون سازی کا آغاز,خواتین کے حقوق، انصاف اور وقار کی نئی بنیاد
نیشنل کمیشن فار دی اسٹیٹس آف ویمن (NCSW) کی قیادت میں پہلا قومی مشاورتی اجلاس؛ صنفی تشدد، طبی قانونی اصلاحات اور انسانی حقوق پر مبنی نظام عدل پر اہم سوالات اٹھائے گئے۔
اسلام آباد میں قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں (NCSW) نے اپنی چیئرپرسن محترمہ اُم لیلیٰ اظہر کی قیادت میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میڈیکو لیگل ریگولیشن ایکٹ 2025 کے مسودے پر پہلی قومی مشاورتی نشست کا انعقاد کیا۔ اس مجوزہ قانون کا مقصد میڈیکو لیگل خدمات کو ضابطے میں لانا اور فرانزک تحقیقات کو حقوق پر مبنی، شفاف اور صنفی حساس بنانا ہے۔ خواتین کے حقوق سے متعلق قوانین کے جائزے کے آئینی مینڈیٹ کے تحت، NCSW نے اسلام آباد کے لیے ایک معیاری اور قابلِ عمل قانونی فریم ورک متعارف کروانے کی کوشش کی ہے۔
اس موقع پر جسٹس محسن اختر کیانی نے بھی “پاکستان میں میڈیکو لیگل قانون” کے عنوان سے قومی مکالمے میں خطاب کرتے ہوئے نظامِ عدل اور تفتیش میں موجود خامیوں پر روشنی ڈالی اور موجودہ اصلاح کو ایک دیرینہ ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ میڈیکو لیگل نظام کو وقار، شفافیت اور احتساب کے اصولوں پر ازسرِنو استوار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
مشاورتی اجلاس میں وزارت انسانی حقوق، وزارت قانون و انصاف، وزارت قومی صحت، ICT ایڈمنسٹریشن، پمز، پولی کلینک، لیگل ایڈ سوسائٹی، لاء اینڈ جسٹس کمیشن، اور فرانزک و صنفی امور کے ماہرین سمیت اہم اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہونے والی گفتگو نہ صرف تکنیکی اعتبار سے اہم تھی بلکہ انسانی حقوق اور سماجی تحفظ کے وسیع تر تناظر میں بھی گہرائی رکھتی تھی۔
مشاورت کے دوران متعدد سوالات نے توجہ حاصل کی: کیا پاکستان صنفی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کے مقدمات میں متاثرہ افراد پر مرکوز اور حقوق پر مبنی فرانزک نظام اپنانے کے لیے تیار ہے؟ کیا فرانزک شہادت کو زبانی اور حالات و واقعات کی شہادت کے ساتھ مؤثر طور پر جوڑا جا سکتا ہے؟ کیا قانون میڈیکو لیگل افسران کی سیکیورٹی، ڈیجیٹلائزیشن، اور خدمات کی مرکزیت سے ہٹ کر مقامی سطح تک رسائی کو یقینی بنائے گا؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا ہم آئینی اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق متاثرین اور ملزمان دونوں کے ساتھ باوقار سلوک کی ضمانت دے سکیں گے؟
وزارت انسانی حقوق نے رپورٹوں کے لیے سخت ڈیڈ لائنز پر تحفظات کا اظہار کیا اور اس امر پر زور دیا کہ نظام متاثرین اور ملزمان دونوں کے لیے متوازن اور منصفانہ ہونا چاہیے۔ پمز نے رپورٹوں میں “فیبریکیٹڈ/غیرفیبریکیٹڈ” جیسے الفاظ کو ختم کر کے ایک درمیانی اور غیرجانبدار اصطلاح شامل کرنے کی تجویز دی تاکہ میڈیکل افسران پر فیصلہ کن دباؤ نہ پڑے۔ “فرینڈلی انجریز” کی اصطلاح کو بھی بحث کا حصہ بنایا گیا۔
وزارت قانون و انصاف نے اس بات کی سفارش کی کہ سندھ اور پنجاب کے متعلقہ قوانین کا تقابلی جائزہ لیا جائے تاکہ مجوزہ قانون دیگر صوبوں کے فریم ورک سے ہم آہنگ ہو سکے۔ NCSW اور پولی کلینک نے عوامی آگاہی، ڈیجیٹل سہولیات اور نفاذ کے طریقہ کار کو مؤثر بنانے پر زور دیا۔ اس کے علاوہ، فرانزک معاملات سے وابستہ میڈیکل افسران کی سلامتی اور قانونی تحفظ کا مسئلہ بھی مرکزی اہمیت اختیار کر گیا۔
تمام شرکاء نے آئندہ مشاورتوں میں پولیس، عدلیہ، اور بنیادی صحت کے اداروں کو شامل کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا تاکہ قانون سازی کی بنیاد وسیع اور مؤثر ہو۔ ایک خصوصی ڈرافٹنگ کمیٹی کی تشکیل پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جو اس مسودے کو حتمی شکل دے گی۔
چیئرپرسن NCSW اُم لیلیٰ اظہر نے کہا، “ہم صرف ایک اور قانون نہیں بنا رہے۔ ہم ایک ایسے بوسیدہ نظام کو چیلنج کر رہے ہیں جہاں تشدد سے بچ جانے والے افراد کو وہی نظام مزید اذیت دیتا ہے جو ان کا محافظ ہونا چاہیے۔ یہ لمحہ قومی سطح پر سوچنے اور سوال اٹھانے کا ہے: کیا ہم واقعی انصاف کے متلاشیوں کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟”
این سی ایس ڈبلیو نے وکلاء، میڈیا، سول سوسائٹی، اور عام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مکالمے کا حصہ بنیں اور تجاویز و تنقید کے ذریعے اس قانون کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں — کیونکہ میڈیکو لیگل نظام کی اصلاح محض قانونی معاملہ نہیں، بلکہ معاشرتی ذمہ داری ہے۔ اگلی مشاورتی نشست اگست 2025 کے اوائل میں منعقد ہوگی، جس میں عدلیہ، پولیس، اور صنفی امور کے یونٹس شامل ہوں گے اور حقیقی کیس اسٹڈیز اور نفاذ کے طریقہ کار پر غور کیا جائے گا۔