"پاکستان نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کر لی”جنرل (ر) عبدالقیوم
، عالمی سیاسی چیلنجز اور قومی استحکام کے لیے ہم آہنگی، نظریاتی وابستگی اور خارجہ توازن پر زورجنرل (ر) عبدالقیوم کا ایوانِ قائداعظم فورم میں خطاب
لاہور: ادارۂ نظریۂ پاکستان کے وائس چیئرمین اور صدر ایکس سروس مین سوسائٹی جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا ہے کہ بھارت کی حالیہ جارحیت کا پاکستان نے منہ توڑ جواب دے کر خطے میں اپنی پوزیشن کو نہ صرف مضبوط بلکہ مستحکم بھی کر لیا ہے۔ آج دنیا کی بڑی طاقتیں پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کر رہی ہیں، اور ایسے وقت میں امریکہ اور چین کے ساتھ متوازن تعلقات کا قیام ناگزیر ہے۔
ایوانِ قائداعظم فورم کی خصوصی نشست بعنوان "عالمی سیاسی منظر نامہ میں پاکستان کو درپیش چیلنجز” سے خطاب کرتے ہوئے جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ ملک کو سیاسی اور معاشی استحکام کی اشد ضرورت ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس نشست کا اہتمام ادارۂ نظریۂ پاکستان نے کیا جس میں لاہور کے پانچ اہم کالجز کی طالبات سمیت گورنمنٹ کالج یونیورسٹی اور کینئیرڈ کالج کے طلبا نے بھی شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی نظریاتی اساس کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان دوقومی نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا اور یہی نظریہ ہماری شناخت کی بنیاد ہے۔ بھارت نے آج تک پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور سازشوں میں مصروف ہے۔ ہماری بہادر افواج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر ثابت کیا کہ پاکستان ناقابلِ تسخیر ہے۔
جنرل (ر) عبدالقیوم نے خارجہ پالیسی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو امریکہ اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ اسی طرح ایران، سعودی عرب اور افریقی ممالک سے باہمی تجارت اور دوستی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ افغانستان سے بلاوجہ تنازع میں الجھنے کے بجائے خارجہ حکمتِ عملی میں تدبر اختیار کرنا ہوگا۔
نشست میں ادارۂ نظریۂ پاکستان کے رکن میاں سلمان فاروق نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے اور ہمیں ان وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے انسانی وسائل کو جدید تربیت دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ زبان اور وطن سے محبت اور فخر ہمیں ترقی کی جانب لے جا سکتا ہے، اور ہم اتحاد سے پاکستان کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا سکتے ہیں۔
اس موقع پر ادارے کی سیکرٹری ناہید عمران گل، پروفیسر انجم نظامی، محمد سیف اللہ چوہدری، اور طلبا و طالبات کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ تقریب نے نہ صرف قومی شعور اجاگر کیا بلکہ نوجوان نسل کو ملکی و عالمی سطح پر درپیش چیلنجز کے بارے میں آگاہی فراہم کی۔