تحریر: کھیل دوست۔شاہد الحق
نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کو دنیا بھر میں تعلیم کے میدان میں لڑکیوں کے حقوق کی علمبردار کے طور پر جانا جاتا ہے، لیکن اب انہوں نے ایک نئی عالمی مہم کا آغاز کیا ہے جو تعلیم کے بجائے کھیل کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق ہے۔ لندن میں ہونے والی "بلی جین کنگ پاور آف ویمنز اسپورٹس سمٹ” میں اعلان کردہ یہ منصوبہ "ریسیس” کہلاتا ہے، جس کا مقصد دنیا بھر میں لڑکیوں کے لیے کھیل کے مواقع بڑھانا اور خواتین کے پیشہ ورانہ کھیلوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
یہ منصوبہ اصل میں کھیلوں کی دنیا میں صنفی مساوات کے لیے کام کرنے والی قد آور شخصیات جیسے کہ بلی جین کنگ اور الانا کلاوس کی برسوں پرانی کاوشوں کا تسلسل ہے، جو اب ایک منظم عالمی تحریک کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ خواتین کی باسکٹ بال اور فٹ بال جیسی پیشہ ورانہ لیگز میں سرمایہ کاری کی بات ہو رہی ہے، جنہیں اب نہ صرف کاروباری لحاظ سے فائدہ مند سمجھا جا رہا ہے بلکہ انہیں معاشرتی تبدیلی کا ذریعہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔
ملالہ کی اس منصوبے میں شمولیت اُن کے ذاتی تجربات اور ازدواجی زندگی کے تناظر میں ہوئی ہے۔ ان کے شوہر، اسر ملک، پاکستان کے معروف اسپورٹس ایگزیکٹو ہیں، جن کے ساتھ ازدواجی زندگی نے ملالہ کو کھیلوں کی دنیا میں قریب کر دیا۔ خود ملالہ کے بچپن کا یہ واقعہ کہ سوات کے ایک اسکول میں کھیل کے وقفے کے دوران لڑکے کرکٹ کھیلنے چلے جاتے تھے اور لڑکیاں ایک طرف بیٹھا دی جاتی تھیں، اس منصوبے کے پس منظر کا حصہ بنا۔ یہی تجربہ ان کی ترغیب بنا کہ دنیا بھر کی لڑکیاں کھیلوں کے ذریعے خود اعتمادی حاصل کریں۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: جب اس منصوبے کی بنیاد سوات کی ایک یاد پر رکھی گئی، تو سوات کو اس کا مرکز کیوں نہیں بنایا گیا؟ کیوں "ریسیس” کا آغاز لندن سے ہوا لیکن پاکستان، خاص طور پر خیبر پختونخوا، کو اس کا حصہ نہیں بنایا گیا؟ کیوں نہ سوات کے اسکولوں میں اس منصوبے کا آغاز کیا گیا جہاں آج بھی بچیاں بنیادی کھیلوں کی سہولتوں سے محروم ہیں؟
یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے جب ہم پاکستان کی ان باہمت لڑکیوں کی طرف دیکھتے ہیں جو ہر قسم کی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کر رہی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں نام عائشہ ایاز کا ہے، جو پاکستان کی سب سے کم عمر بین الاقوامی تائیکوانڈو چیمپئن ہیں اور سوات سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔ دبئی، تھائی لینڈ، بنکاک اور قطر میں کئی گولڈ، سلور اور برانز میڈلز جیت چکی ہیں۔ اُن کے پاس 120 سے زائد قومی و بین الاقوامی اعزازات ہیں اور وہ میٹرکس پاکستان کی عالمی سفیر بھی ہیں۔ اُنہیں خیبر پختونخوا حکومت، پی ایس ایل، اور دیگر قومی اداروں سے اعزازات مل چکے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر "ریسیس” واقعی لڑکیوں کی طاقت کو اجاگر کرنے کا منصوبہ ہے، تو عائشہ ایاز جیسی لڑکی اس میں کیوں شامل نہیں؟ اُن کے تجربات، کامیابیاں، اور قربانیاں عالمی سطح پر اجاگر کیوں نہیں کی جاتیں؟ یہی سوال کوئٹہ، وزیرستان، گلگت بلتستان، اور چترال کی اُن لڑکیوں کے لیے بھی ہے جو کھیلنے کے لیے آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔
یہ تنقید برائے تنقید نہیں ہے، بلکہ ترجیحات کی اصلاح کا مطالبہ ہے۔ تعلیم اور کھیل ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک ہی راستے کے دو ستون ہیں۔ کھیل لڑکیوں میں خود اعتمادی، قیادت، نظم و ضبط اور صحت مند سوچ کو فروغ دیتا ہے۔ یہ ان کی ازدواجی، سماجی اور پیشہ ورانہ زندگی میں کامیابی کے لیے بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں، جہاں لڑکیوں کو اکثر زندگی کے کئی میدانوں سے باہر رکھا جاتا ہے، کھیل انہیں میدان میں لانے کا سب سے مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔
اگر "ریسیس” حقیقی معنوں میں تبدیلی کا منصوبہ ہے، تو اسے سوات کے سرکاری اسکولوں سے شروع ہونا چاہیے۔ پشاور، چارسدہ، بنوں، اور کوئٹہ کے اسکولوں میں لڑکیوں کے لیے اسپورٹس پروگرامز، مقامی خواتین کوچز کی تربیت، اور کھیلوں کی چھوٹی چھوٹی لیگز کا انعقاد — یہ اقدامات صرف علامتی نہیں، انقلابی ہوں گے۔ یہ وہ عمل ہوں گے جو ملالہ کی زندگی کے اصل جذبے کو عملی صورت دیں گے۔
ایک ایسے وقت میں جب پاکستان صنفی ناہمواری اور معاشرتی عدم استحکام کا شکار ہے، کھیل ایک مؤثر ہتھیار بن سکتا ہے — نہ صرف جسمانی صحت کے لیے بلکہ ذہنی اور سماجی ترقی کے لیے بھی۔ ملالہ کے پاس طاقت، پلیٹ فارم اور نظریہ موجود ہے۔ اب سوال صرف اتنا ہے: کیا وہ اپنے ہی وطن کی بچیوں کو بھی اس خواب میں شامل کریں گی؟
نوٹ :رائٹر سینئر اسپورٹس جرنلسٹ ہیں اور پاکستان میں کھیلوں سے ترقی اور امن کے داعی ہیں