ٹرمپ کا بھارت پر 25 فیصد ٹیرف، کانگریس کی مودی سرکار پر شدید تنقید

"دوستی کے بدلے جرمانہ!" , کانگریس نے مودی کی ٹرمپ پالیسی کو بھارت کی خارجہ محاذ پر شرمناک ناکامی قرار دے دیا

0


نئی دہلی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے پر بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ نریندر مودی نے امریکی صدر کے لیے انتخابی مہم چلائی، ’’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘‘ جیسے نعرے لگائے گئے، لیکن بدلے میں بھارت کو بھاری اقتصادی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔

کانگریس کے بیان میں کہا گیا کہ مودی نے ٹرمپ کو برسوں سے بچھڑے بھائیوں کی طرح گلے لگایا، لیکن اس ’دوستی‘ کا صلہ بھارت کو بھاری ٹیرف اور جرمانے کی صورت میں ملا۔ اپوزیشن کے مطابق، یہ بھارتی خارجہ پالیسی کی "ہولناک ناکامی” ہے، اور پوری قوم ایک فرد کی ذاتی دوستی کے نتائج بھگت رہی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ بھارت کو یکم اگست سے 25 فیصد ٹیرف دینا ہوگا، بصورت دیگر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس سے قبل امریکا بھارت سے 14.26 فیصد ٹیرف وصول کر رہا تھا۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے امریکا کے ساتھ کاروبار میں ہمیشہ کمی رکھی، جبکہ دنیا میں سب سے زیادہ ٹیرف وصول کرنے والا ملک ہونے کے باوجود واشنگٹن کو کم حصہ دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت نے ہمیشہ فوجی ساز و سامان کے بڑے معاہدے روس سے کیے اور توانائی کے شعبے میں بھی چین اور روس سے بڑے پیمانے پر خریداری کی۔

امریکی صدر کے مطابق بھارت کو نہ صرف ٹیرف بلکہ اضافی جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا، جو یکم اگست سے نافذ العمل ہوگا۔ انہوں نے بھارتی تجارتی پالیسیوں کو سخت اور ناقابل قبول قرار دیا۔

یہ پیش رفت مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سنگین سوالات اٹھا رہی ہے، جہاں دوستی اور ذاتی تعلقات کو قومی مفاد پر ترجیح دینے کے نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔

Ask ChatGPT
Leave A Reply

Your email address will not be published.