عدالتوں کے فیصلے افسوسناک، تحریک یا بائیکاٹ کا فیصلہ قائد عمران خان کی مشاورت سے ہوگا:بیرسٹر گوہر

پی ٹی آئی قیادت کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے، انصاف کے دروازے بند، الیکشن کمیشن جانبدار ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

0

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے پارٹی رہنماؤں کو سنائی جانے والی سزاؤں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جمہوریت کے لیے ایک افسوسناک دن ہے، ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا، ہمارے لیڈر کو جیل میں قید رکھا گیا، اور انصاف کے دروازے ہم پر بند کر دیے گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسد قیصر، جنید اکبر خان اور علامہ راجا ناصر عباس کے ہمراہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کیا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے بھرپور کوشش کی کہ جمہوریت چلے، پارلیمنٹ چلے، لیکن ظلم اور ناانصافی کی کوئی حد باقی نہیں رہی۔ ہمارے 6 ایم این ایز، 3 ایم پی ایز، ایک سینیٹر، اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور سینیٹ، حتیٰ کہ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا اور زرتاج گل تک کو سزا دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری قیادت نے ہمیشہ نظام کو بچانے کی بات کی، پارلیمان کا حصہ رہے، دھرنے سے گریز کیا، لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی کو مسلسل دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس سے ہم نے صرف انصاف مانگا، لیکن 2023 سے دائر پٹیشنز آج بھی فیصلے کی منتظر ہیں، اور دوسری جانب عدالتیں رات 2 بجے تک ٹرائلز چلا رہی ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ ادارہ ہے جس کی مدت ختم ہو چکی ہے، مگر اب بھی ہمارے منتخب نمائندوں کو نااہل کیا جا رہا ہے۔ اگر پی ٹی آئی کو سسٹم سے باہر نکالا جا رہا ہے تو قوم جاننا چاہتی ہے کہ اس سازش کے پیچھے کون لوگ ہیں؟

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم تصادم کی سیاست کے قائل نہیں، لیکن حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ ہمیں اپنے قائد عمران خان کے سامنے یہ بات رکھنی پڑے گی کہ آیا ہمیں ایوان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے یا کوئی سیاسی تحریک چلانی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کا حتمی فیصلہ پارٹی قیادت جلد کرے گی۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جب ملک میں دو فریق آمنے سامنے ہوں تو تمام نگاہیں عدلیہ کی جانب ہوتی ہیں، ہم صرف انصاف چاہتے ہیں — بے خوف، غیر جانبدار اور فوری انصاف۔

Ask ChatGPT
Leave A Reply

Your email address will not be published.