خواتین اور بچوں کے آن لائن حقوق کے دفاع کی جانب ایک تاریخی قدم

این سی ایس ڈبلیو اور این سی ای آر ٹی کا ڈیجیٹل تحفظ کے لیے اشتراک

0

اسلام آباد،: قومی کمیشن برائے وقار نسواں (NCSW) اور نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم (NCERT-PKCERT) نے خواتین اور بچوں کو بڑھتے ہوئے سائبر خطرات اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے صنفی تشدد سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جو پاکستان میں ڈیجیٹل تحفظ کے حوالے سے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس شراکت کا مقصد ایک ایسا محفوظ، باوقار اور جامع ڈیجیٹل ماحول قائم کرنا ہے جہاں خواتین اور لڑکیاں ہراسانی، استحصال اور خوف کے بغیر انٹرنیٹ کا استعمال کر سکیں۔ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن این سی ایس ڈبلیو امِ لیلیٰ اظہر نے کہا کہ "آن لائن سیفٹی اب محض سہولت نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ ہمیں اپنے ڈیجیٹل اسپیسز کو تشدد اور امتیاز سے پاک بنانا ہوگا تاکہ خواتین اور لڑکیاں ترقی کی راہ پر بغیر کسی خوف کے آگے بڑھ سکیں۔”

ڈائریکٹر جنرل این سی ای آر ٹی حیدر عباس نے بھی اس شراکت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین اور بچوں کو باخبر، بااختیار اور محفوظ بنانا ہماری قومی ترجیح ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ادارے مل کر جدید سائبر سیکیورٹی ٹولز تیار کریں گے، شعوری مہمات چلائیں گے اور ہر شعبے کے متعلقہ افراد کو اس جدوجہد کا حصہ بنائیں گے۔

یہ معاہدہ پاکستان کو ایک محفوظ، باوقار اور مساوی ڈیجیٹل مستقبل کی جانب لے جانے کے عزم کی علامت ہے۔ اس شراکت کے تحت خواتین، بچوں، والدین اور اساتذہ کے لیے آگاہی مہمات کا انعقاد، سائبر سیکیورٹی کے خصوصی ٹولز کی تیاری، پالیسی اصلاحات کی ترویج، تربیتی پروگرامز اور نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ مواقع شامل ہیں۔

یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان میں ڈیجیٹل سیفٹی کی سمت ایک انقلابی قدم ہے بلکہ یہ اس عزم کا بھی اظہار ہے کہ اب کوئی عورت یا بچہ آن لائن دنیا میں خوف کے ساتھ نہیں بلکہ اعتماد کے ساتھ جئے گا۔

Ask ChatGPT
Leave A Reply

Your email address will not be published.