الیکٹرک گاڑیاں، بیٹری ٹیکنالوجی اور سبز ترقی , پاک چین بزنس کانفرنس کا محور
پاکستان کا چین کے ساتھ الیکٹرک وہیکل تعاون پر فوکس: احسن اقبال کا تزویراتی شراکت پر زور
بیجنگ،:
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات، احسن اقبال چوہدری نے پاکستان اور چین کے درمیان مستقبل کے اہم تعاون کے شعبے کے طور پر الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کو اجاگر کرتے ہوئے ملک کی تکنیکی جدت اور پائیدار ترقی کے عزم کو نمایاں کیا ہے۔
احسن اقبال نے عالمی سطح پر توانائی کے شعبے میں تبدیلی میں EV ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے جدید بیٹری سسٹمز کی ترقی میں چین کے ساتھ اشتراک پر پاکستان کی دلچسپی کا اظہار کیا، جو روایتی لیتھیم آئن بیٹریوں کے مقابلے میں نمایاں فوائد رکھتی ہیں۔
وزیر نے اس موقع پر اعلان کیا کہ 4 ستمبر کو چین میں ہونے والی پاک چین بزنس کانفرنس دونوں ممالک کے صنعتی شعبے کے مابین اشتراک کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ "ہم پاکستان سے 250 سے زائد اور چین سے 200 سے زائد کمپنیوں کی شرکت کی توقع کر رہے ہیں۔” کانفرنس میں الیکٹرک گاڑیوں، شمسی توانائی، کیمیکلز اور زراعت جیسے شعبوں میں براہ راست صنعتی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔
احسن اقبال نے پاکستان میں EV مینوفیکچرنگ کے قیام کو دوہرا فائدہ قرار دیا—یہ نہ صرف چینی سرمایہ کاروں کے لیے لاگت میں کمی کا ذریعہ بنے گا بلکہ پاکستان کو فوسل فیولز پر انحصار سے نکلنے میں بھی مدد دے گا۔ انہوں نے مقامی EV پیداوار میں چینی سرمایہ کاری کو توانائی کی خود کفالت، روزگار کے مواقع اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے ایک تزویراتی قدم قرار دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی نئی نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی 2025–2030 کے تحت 2030 تک 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک بنانے اور 2060 تک صفر کاربن ٹرانسپورٹ سسٹم کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس پالیسی میں ٹیکس میں چھوٹ، سبسڈیز، چارجنگ انفراسٹرکچر کی ترقی اور مقامی پیداوار کو بھرپور فروغ دینے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
چینی کمپنیاں جیسے BYD اور چیری پہلے ہی پاکستان میں EV اسمبلنگ، انفراسٹرکچر کی توسیع اور ملک کو خطے کا ممکنہ الیکٹرک موبیلیٹی مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔