میکسیکو کی پہلی خاتون صدر کا امریکی فوجی کارروائی کے خدشات کو مسترد کرنے کا اعلان

کلاڈیا شین بام کا مؤقف, امریکا سے تعاون جاری رہے گا مگر ملکی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں ہوگا

0

میکسیکو سٹی :میکسیکو کی پہلی خاتون صدر کلاڈیا شین بام نے امریکا کی جانب سے منشیات فروش گروہوں کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ نیوز کانفرنس سے خطاب میں صدر نے واضح کیا کہ امریکا ہمارے ملک پر حملہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم تعاون کرتے ہیں اور ساتھ کام کرتے ہیں، لیکن حملے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس امکان کو مکمل طور پر رد کرتی ہوں۔”

کلاڈیا شین بام کے مطابق ان کی حکومت کو امریکی ایگزیکٹو آرڈر کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے، تاہم اس کا تعلق میکسیکو کی زمین پر کسی فوج یا ادارے کی شمولیت سے نہیں ہے اور نہ ہی ملک پر حملے کا کوئی خطرہ ہے۔

میکسیکو کی وزارت خارجہ نے دو ٹوک کہا ہے کہ اپنے علاقے میں امریکی فوج کی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔ دوسری جانب امریکی سفارت خانے نے بیان جاری کیا کہ دونوں ممالک منشیات فروش گروہوں سے اپنے عوام کی حفاظت کے لیے ہر ممکن ذرائع استعمال کریں گے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خفیہ حکم کے تحت پینٹاگون کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ سمندر میں اور غیر ملکی زمین پر براہِ راست فوجی کارروائیاں کر سکے، خصوصاً ان ڈرگ کارٹلز کے خلاف جنہیں دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا گیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ حکم منشیات فروش گروہوں کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کا اختیار فراہم کرتا ہے، اور ہمیں انہیں صرف منشیات فروش نہیں بلکہ مسلح دہشت گرد تنظیمیں تصور کرنا ہوگا۔

اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کا ایک مختصر، تیز اور زیادہ اخباری انداز والا ورژن بھی بنا سکتا ہوں تاکہ یہ صفحۂ اول پر زیادہ جاندار لگے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.