پنجاب میں عزاداروں کی گرفتاریوں پر شیعہ علما کونسل کا احتجاج، فوری رہائی کا مطالبہ
چہلم سے قبل خوف و ہراس پھیلانے کی کوششیں ناقابلِ قبول، عزاداری ہمارا آئینی حق ہے, شیعہ علما کونسل
اسلام آباد: شیعہ علما کونسل نے پنجاب میں محرم اور اربعین سے قبل عزاداروں کی گرفتاریوں اور گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات شہری آزادیوں اور آئینی حقوق کے منافی ہیں۔شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی سیکڑٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کونسل کے دیگررہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہو ئے کہا کہ پنجاب حکومت عزاداریِ سید الشہدا کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہی ہے، جن میں ایف آئی آرز، دھمکیاں، گرفتاریوں اور گھروں کی حرمت پامال کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
کونسل کے مطابق اب تک موصولہ اطلاعات میں بیسیوں عزاداروں کی گرفتاریاں ہو چکی ہیں، جو مسلم لیگ ن اور وزیراعلیٰ پنجاب کے بیان کردہ ویژن سے متصادم ہیں اور حکومت کے خلاف عوام میں منفی تاثر پیدا کر رہی ہیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ عزاداری سید الشہدا نہ صرف مذہبی بلکہ آئینی و قانونی حق ہے اور اس پر کسی قسم کی قدغن برداشت نہیں کی جائے گی۔
شیعہ علما کونسل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خوف و ہراس پھیلانے اور بلاجواز گرفتاریوں کا سلسلہ فوری طور پر ختم کیا جائے اور تمام گرفتار عزاداروں کو فی الفور رہا کیا جائے تاکہ چہلم امام حسینؑ پرامن ماحول میں منعقد ہو سکے۔ بصورت دیگر، عوام اپنے مذہبی اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے اٹھ کھڑی ہو گی۔
مزید برآں، کونسل نے انسانی حقوق کے تمام علمبرداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ عزاداروں کے حقوق کے تحفظ اور مذہبی آزادی کے اس اہم مسئلے پر بھرپور آواز اٹھائیں۔