پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ — قومی اسمبلی و سینیٹ میں نئے اپوزیشن لیڈرز کی تقرری روک دی

عمر ایوب اور شبلی فراز کے خلاف مزید کارروائی پر بھی پابندی، الیکشن کمیشن سے 15 اگست تک جواب طلب

0

پشاور:  پشاور ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نئے اپوزیشن لیڈرز کی تقرری کا عمل روک دیا اور الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ عمر ایوب اور شبلی فراز کے خلاف مزید کارروائی نہ کی جائے۔

جسٹس ارشد علی اور جسٹس خورشید اقبال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے یہ حکم الیکشن کمیشن کی جانب سے دونوں رہنماؤں کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیا۔

درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر گوہر علی خان نے مؤقف اختیار کیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کے اقدامات کے خلاف دو علیحدہ درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق 5 اگست کو اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کی نشست کو خالی قرار دے دیا گیا، جو آئینی اور قانونی تقاضوں کے منافی ہے۔ عدالت نے سب سے پہلے دائرہ اختیار پر سوال اٹھایا، جس پر وکیل نے کہا کہ آرٹیکل 63(1)(h) کے تحت نااہلی کا عمل غیر قانونی اور غیر مؤثر ہے۔

بیرسٹر گوہر کے مطابق رولز آف بزنس کے تحت اپوزیشن لیڈر کا انتخاب مخصوص طریقہ کار سے ہوتا ہے اور الیکشن کمیشن 60 دن گزرنے کے بعد کسی رکن کو نااہل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ کسی بھی رکن کو نااہل کرنے کے لیے اسپیکر کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجنا ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 9 مئی کے واقعات افسوسناک ضرور ہیں، لیکن عمر ایوب اور دیگر رہنماؤں کے خلاف کارروائی ایک ایم این اے عبد الطیف کے کیس کو بنیاد بنا کر کی جا رہی ہے، جسے 10 سال قید کی سزا دی گئی۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 63(2) کی غلط تشریح کی ہے اور سید یوسف رضا گیلانی کے کیس کا حوالہ اس معاملے میں درست نہیں۔

عدالت نے الیکشن کمیشن اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 15 اگست تک جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.