بحریہ انٹرنیشنل اسپتال راولپنڈی میں انسداد پولیو مہم کا آغاز

ماہرینِ صحت: "آج کے قطرے بچوں کے محفوظ کل کی ضمانت ہیں، والدین تعاون یقینی بنائیں"

0

راولپنڈی: چار روزہ قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز آج بحریہ انٹرنیشنل اسپتال راولپنڈی میں ایک پر وقار تقریب کے ساتھ کیا گیا۔ اس موقع پر اسپتال کے ماہرینِ اطفال اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی کے نمائندے موجود تھے۔ یہ مہم یکم ستمبر سے 4 ستمبر 2025 تک جاری رہے گی جس میں پولیو ٹیمیں گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حرا، ماہر اطفال بحریہ انٹرنیشنل اسپتال، نے کہا: ’’والدین کو چاہیے کہ جب بھی پولیو ٹیم ان کے دروازے پر آئے تو وہ دروازے کھولیں اور بچوں کو لازمی ویکسین پلائیں۔ یہ صرف طبی ضرورت نہیں بلکہ والدین کی اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری بھی ہے۔ آج کے قطرے ہمارے بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔‘‘ ڈاکٹر کمال، ماہر اطفال بحریہ اسپتال، نے کہا: ’’یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ پولیو اب بھی ختم نہیں ہوا۔ یہ اب بھی ایک قومی ایمرجنسی ہے۔ ایک بھی بچہ اگر قطرے سے محروم رہ جائے تو وائرس ہمارے درمیان زندہ رہ سکتا ہے۔ بروقت ویکسین ہی بچوں کے تحفظ کی واحد ڈھال ہے اور والدین کے تعاون کے بغیر اس جنگ کو جیتنا ناممکن ہے۔‘‘ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی کے نمائندے ڈاکٹر حنان جاوید نے کہا: ’’سیلاب اور دیگر ہنگامی حالات کے باوجود انسداد پولیو کی کوششیں جاری رہیں گی۔ ہماری ٹیمیں ہر گھر تک پہنچیں گی تاکہ کوئی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے۔ پولیو کے قطرے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے والی ڈھال ہیں اور ہم سب کا فرض ہے کہ ہر بچے کو یہ تحفظ دیا جائے۔‘‘ اس موقع پر بہریہ انٹرنیشنل اسپتال کی انتظامیہ نے اعلان کیا کہ یہ ادارہ ایک پولیو فری سوسائٹی ہے اور انسداد پولیو کی قومی کوششوں میں مکمل تعاون فراہم کرتا رہے گا۔ اسپتال نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو ویکسین صرف بچوں کی ذاتی حفاظت نہیں بلکہ پورے معاشرے کے اجتماعی تحفظ کی ضمانت ہے۔ پولیو ایک موذی اور مہلک وائرس ہے جو زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ آلودہ پانی اور خوراک کے ذریعے پھیلتا ہے اور اکثر اوقات بچوں کو زندگی بھر کی معذوری یا موت تک لے جاتا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک نے پولیو کو ختم کر دیا ہے مگر پاکستان ان دو ممالک میں شامل ہے جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی موجود ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ قدرتی آفات جیسے سیلاب پولیو کے خطرے کو مزید بڑھا دیتے ہیں کیونکہ اس سے صفائی کے نظام کو نقصان پہنچتا ہے اور خاندان بے گھر ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں پولیو مہمات اور بھی زیادہ ضروری ہو جاتی ہیں تاکہ ہر بچے کو ویکسین کے ذریعے محفوظ بنایا جا سکے۔ انسداد پولیو مہم کے دوران یکم سے 4 ستمبر تک راولپنڈی بھر میں ویکسینیٹرز گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلائیں گے۔ والدین سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس قومی مہم میں بھرپور تعاون کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ کوئی بچہ قطرے سے محروم نہ رہے۔ تقریب کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ پاکستان پولیو کے خلاف یہ جنگ ضرور جیتے گا، لیکن یہ کامیابی صرف اجتماعی ذمہ داری اور والدین، حکومت، ہیلتھ ورکرز اور اداروں کی مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.