ستلج، راوی اور چناب میں تباہ کن سیلاب — 30 جاں بحق، لاکھوں متاثر، تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن جاری

0

لاہور:  ستلج، راوی، چناب میں سیلاب نے سب کچھ تہس نہس کر دیا، 30 افراد سیلابوں کی نذر ہو گئے، لاکھوں لوگ متاثر ہوئے، ہزاروں ایکڑ پر فصلیں اور گھربار تباہ ہو گئے، شہر، گاؤں اور بستیاں ڈوب گئیں۔

ہر طرف منہ زور سیلابی ریلوں نے یلغار کر دی، قصور میں دریائے ستلج میں ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر تاریخ کا سب سے بڑا سیلابی ریلہ آنے سے پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 53 ہزار کیوسک ہو گیا، ستلج کی سرحدی علاقوں میں تباہ کاریوں سے گھر، کھیت کھلیان سب پانی کی نذر ہو گئے۔

وہاڑی میں موضع کھجی کا عارضی بند ٹوٹنے سے سڑکیں زیر آب، زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، اوکاڑہ میں سید والا روڈ سیلابی پانی کی نذر ہونے سے اوکاڑہ کا ننکانہ صاحب اور فیصل آباد سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، خیرپور ٹامیوالی میں دریائی بیلٹ میں پھنسے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔

بہاولنگر میں بند ٹوٹنے سے پانی قریبی آبادیوں میں داخل ہو گیا، سیکڑوں ایکڑ فصلیں زیرآب آگئیں، علاقہ مکین گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے، پاکپتن میں بھی سیلابی صورتحال برقرار ہے، ہیڈ سلیمانکی پر اونچے درجے کے سیلاب سے کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔

دریائے راوی میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب

دریائے راوی میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، ہیڈ بلوکی پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ، ہیڈ بلوکی پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 23 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، شاہدرہ کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 3 ہزار کیوسک پر آگئی، جسڑ کے مقام پر پانی 93 ہزار 660 کیوسک کی سطح پر آگیا۔

راوی کے سیلابی ریلے سے ننکانہ صاحب میں دریائی بیلٹ پر متعدد دیہات زیر آب آگئے، علاقہ مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اوکاڑہ میں دریائے راوی میں ماڑی پتن کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ کے باعث 8 ہزار کے قریب لوگوں کو ریسکیو کر لیا گیا، لاہور کے مختلف علاقوں میں سیلاب متاثرہ افراد کیلئے فلڈ ریلیف کیمپس قائم کئے گئے۔

متاثرہ علاقوں میں پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن 

ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن جاری ہے، چناب اور راوی کا ریلہ مزید پریشانی کا باعث بن سکتا ہے، تینوں دریاؤں میں پانی کا بہاؤ بلند ترین سطح پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ راوی کے اطراف 478 گاؤں اور 2لاکھ 38 ہزار افراد متاثر ہوئے، ہیڈ مرالہ پر 1 لاکھ 75ہزار کیوسک پانی کا ریلہ گزر رہا ہے، ہیڈ سدھنائی اور کبیر والا کی جانب پانی کا بڑا ریلہ بڑھ رہا ہے، ہیڈ محمد والا میں شگاف ڈالنے کی نوبت آسکتی ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ شیر شاہ پل کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، دریائے ستلج کے قریبی 22 دیہات کو خالی کرالیا، ہیڈ تریموں پر 8 لاکھ کیوسک سے زائد پانی کا ریلہ کل پہنچے گا۔

پاک فوج سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن میں مصروف

پاک فوج سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن میں مصروف ہے، دریائے ستلج اور ہیڈ سلیمانکی کے سیلابی پانی سے متاثر افراد کی محفوظ مقامات پر منتقلی جاری ہے، متعدد دیہات سے ہزاروں افراد کو مال مویشی سمیت محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔

متاثرین کیلئے ضروری طبی امداد کے انتظامات بھی کیے گئے، پاک فوج نے سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر کئی ریسکیو اینڈ ریلیف کیمپس بھی قائم کیے۔

دریائے سندھ میں شکارپور کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بلند

دریائے سندھ میں شکارپور کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، نشیبی علاقے متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس کے پیش نظر مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کر دی گئی ہے، دریائے سندھ میں سکھر کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔

گھوٹکی میں محکمہ آبپاشی کے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں، تمام حفاظتی اور بچاؤ بندوں کی 24 گھنٹے نگرانی جاری ہے، کچے کے علاقے میں مکینوں کو نقل مکانی کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔

خیرپور میں دریائے سندھ میں سیلاب متاثرین کی کشتی الٹ گئی، سوار تمام افراد کو ریسکیو کرلیا گیا، قیمتی گھریلو سامان اور اناج ڈوب گیا۔

سندھ میں گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 83 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، کوٹری بیراج پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 64 ہزار کیوسک ہو گیا، وزیراعلیٰ سندھ نے سیلابی صورتحال کے باعث وزرا سے رابطہ کیا اور دریا کے کناروں یا کچے میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت کی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ منگل اور بدھ کی رات دریائے سندھ میں سیلاب آنے کا خدشہ ہے، دریا کے بندوں اور نہری نظام کی کڑی نگرانی کی جائے، تمام متعلقہ محکمے اور انتظامیہ فیلڈ میں متحرک رہیں، وزرا تمام اقدامات کو سپروائز کرتے رہیں، عوام کے جان اور مال کی حفاظت کیلئے وزرا دریا پر موجود ہیں۔

بلوچستان میں بھی سیلاب کا خطرہ

پنجاب کے بعد صوبہ بلوچستان بھی سیلاب کی زد میں آنے کا امکان ظاہر کر دیا گیا ہے۔

وزیر آبپاشی بلوچستان صادق عمرانی نے کہا ہے کہ 2 ستمبر کو سیلاب دریائے سندھ سے بلوچستان میں داخل ہونے کا امکان بتایا گیا ہے، جعفر آباد، روجھان، اوستہ محمد، صحبت پور کے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔

صادق عمرانی نے آگاہ کیا کہ سندھ حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے، ممکنہ سیلاب کے پیش نظر کیمپ آفس نصیرآباد میں قائم کر دیا گیا ہے۔

ریسکیو 1122 پنجاب کی جانب سے 92844 افراد کی منتقلی

ریسکیو پنجاب کے ترجمان فاروق احمد کے مطابق اب تک دریائے سندھ، چناب، راوی، ستلج اور جہلم کے ملحقہ علاقوں سے 92,844 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

گذشتہ روز پنجاب بھر کے سیلابی علاقوں سے 20,954 افراد کو ریسکیو کیا گیا، جن میں بہاولپور سے 10,063، پاکپتن سے 1,547، قصور سے 1,434، اوکاڑہ سے 1,223، ننکانہ صاحب سے 1,072، حافظ آباد سے 1,035 اور دیگر شہروں سے متعدد افراد شامل ہیں۔

ریسکیو کے ترجمان کے مطابق اب تک بہاولپور سے 20,552، قصور سے 14,574، پاکپتن سے 8,778، اوکاڑہ سے 7,422، گوجرانوالہ سے 4,830، وہاڑی سے 4,253 اور دیگر شہروں سے ہزاروں افراد کو ریسکیو اور ٹرانسپورٹ فراہم کی جا چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب بھر میں 808 ریسکیو بوٹس (کشتیاں) آپریشنل ہیں جبکہ 1,800 سے زائد تربیت یافتہ ریسکیو سکاؤٹس بھی ایمرجنسی سروسز کے ساتھ متاثرین کی مدد کر رہے ہیں۔

فاروق احمد نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں 1122 پر کال کرکے اپنی لوکیشن واضح کریں تاکہ بروقت ریسکیو ممکن ہو سکے۔

پنجاب پولیس کے 15 ہزار افسر و اہلکار متحرک

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق 15 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، پنجاب پولیس کی بہادر خواتین افسران اور اہلکار بھی سیلاب متاثرین کے انخلا، امدادی سرگرمیوں میں شانہ بشانہ ہیں۔

ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ پنجاب پولیس کے جوانوں نے38 ہزار 130 مردوں، 27 ہزار 418 خواتین اور 25 ہزار 176 بچوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، پنجاب پولیس نے سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے 82 ہزار 200 سو سے زائد مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

آبی گزر گاہوں پر تعمیرات کے نقصانات کا معاوضہ نہیں دیا جائے گا

چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آبی گزرگاہوں پر تعمیرات کو ختم کیا جائے گا۔

زاہد اختر زمان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آبی گزرگاہوں پر تعمیرات کو ختم کیا جائے گا اور دریا کے اندر غیر قانونی تعمیرات کے نقصانات کا کوئی معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔

اے ڈی بی کا پاکستان کے لیے ایمرجنسی گرانٹ کا اعلان

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے صدر مساتو کانڈا نے پاکستان میں حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اے ڈی بی کے صدر نے کہا کہ بینک پاکستان کی معاونت کے لیے فوری اقدامات کرے گا، اس سلسلے میں انہوں نے اعلان کیا کہ حکومتِ پاکستان کی درخواست پر ایشیا پیسیفک ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ سے 30 لاکھ ڈالر کی گرانٹ ایمرجنسی ریلیف سرگرمیوں کے لیے فراہم کی جائے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.