قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں (این سی ایس ڈبلیو) نے نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن (این ایل ڈی) اور کمیونٹی ورلڈ سروس ایشیا (سی ڈبلیو ایس اے) کے اشتراک سے اسلام آباد میں عیسائی پرسنل قوانین میں اصلاحات کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطحی کثیر فریق مکالمے کا انعقاد کیا۔ یہ مکالمہ یومِ انسانی حقوق اور صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف 16 روزہ عالمی مہم کے اختتام کے موقع پر منعقد ہوا۔
این سی ایس ڈبلیو کی چیئرپرسن محترمہ اُمِ لیلیٰ اظہر نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ عیسائی برادری کو درپیش امتیازی رویّوں کو انسانی حقوق کے واضح تناظر میں دور کرنا ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ این سی ایس ڈبلیو عیسائیوں کے پرسنل قوانین پر باضابطہ اعلامیہ کی جانب پیش رفت کرے گا۔ انہوں نے کہا، "این سی ایس ڈبلیو اس اصلاحاتی عمل میں برادری کے ساتھ کھڑا ہے—یہ وقت جامع اور ترقی پسند قانونی اقدامات کا ہے۔”
ارکانِ پارلیمان نے اصلاحات کی متفقہ حمایت کا اظہار کیا۔ وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے اس بات پر زور دیا کہ فرسودہ قوانین کو جدید، حقوق پر مبنی فریم ورک سے بدلنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ سال اس قانون کی منظوری کے لیے اپنی بھرپور کوشش کریں گے۔ رکنِ قومی اسمبلی جیمز اقبال نے برادری، مذہبی قیادت اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور اسمبلی میں اصلاحات کے مؤثر اندراج کا عزم ظاہر کیا۔ ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی انتھونی نوید نے نوآبادیاتی دور کے قوانین میں فوری ترامیم اور چرچوں کی قانونی منظوری کے دائرے کو وسیع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ پارلیمانی سیکریٹری برائے انسانی حقوق، مس سدرہ صادق نے عیسائی شادی و طلاق کے قانون کی فوری منظوری اور عدلیہ کی آگاہی و حساسیت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
سی ڈبلیو ایس اے کے نمائندگان نے بطور مرکزی شراکت دار اقلیتوں خصوصاً خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے جامع اور مؤثر قانونی اصلاحات کے عمل میں بھرپور تعاون جاری رکھنے کے عزم کی توثیق کی۔