اسلام آباد: قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں نے خلع سے متعلق معزز سپریم کورٹ میں جاری سماعتوں پر رات قائم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس معاملے میں پہلے سے موجود عدالتی اصولوں اور آئینی حقوق کے مطابق رہنمائی فراہم کی جائے گی۔
کمیشن نے کہا کہ پاکستان میں خلع کا حق کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے مقدمہ خرشید بی بی بنام بابو محمد امین میں یہ اصول طے ہو چکا ہے کہ اگر میاں بیوی ساتھ نہیں رہ سکتے تو عدالت نکاح ختم کر سکتی ہے۔ خلع کو صرف جسمانی تشدد تک محدود کرنا یا عورت پر سخت ثبوت کی شرط عائد کرنا پہلے سے قائم قانون کے خلاف ہوگا۔
چیئرپرسن امِ لیلہٰ اظہر نے کہا:
“نکاح باہمی رضامندی اور عزت پر قائم ایک معاہدہ ہے۔ اگر یہ بنیاد ختم ہو جائے تو قانون کو عورت کو باعزت راستہ دینا چاہیے۔ خلع صرف مارپیٹ کی صورت میں نہیں بلکہ ناچاقی اور ناقابل برداشت حالات میں بھی ہونا چاہیے تاکہ عورت کو مسلسل تکلیف سے بچایا جا سکے۔”
کمیشن نے کہا کہ گھریلو تشدد اکثر گھر کے اندر ہوتا ہے، اس لیے گواہوں کی سخت شرط انصاف میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 4، 9، 14 اور 25 کے تحت عورت کو برابر اور مؤثر انصاف کا حق حاصل ہے۔ اسی طرح پاکستان نے خواتین کے خلاف امتیاز کے خاتمے سے متعلق عالمی معاہدے خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیاز کے خاتمے کا کنونشن کی بھی توثیق کر رکھی ہے، جس کے مطابق خواتین کو انصاف تک آسان رسائی دینا ضروری ہے۔
قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ معزز سپریم کورٹ خلع کو ایک مؤثر اور قابلِ عمل حق کے طور پر برقرار رکھتے ہوئے ایسا فیصلہ کرے گی جو انصاف، برابری اور انسانی وقار کے اصولوں کے مطابق ہو۔
قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں خواتین کے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ اور انصاف تک آسان رسائی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔