بلوچستان میں خواتین کے استحصال پر قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں کا اظہارِ تشویش

0

قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں نے ملک کے شورش زدہ علاقوں، بالخصوص بلوچستان میں شدت پسند اور عسکری تنظیموں کی جانب سے خواتین کے استحصال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ خواتین کو جبر، تشہیر اور پرتشدد سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنا بنیادی انسانی حقوق، وقار اور حقِ زندگی و سلامتی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

کمیشن نے بلوچستان کی ماؤں اور خواتین کے حوصلے، استقامت اور امن سے وابستگی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ طویل مشکلات اور عدم استحکام کے باوجود یہ خواتین تشدد کو مسترد کر کے خاندانی اور معاشرتی ہم آہنگی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، جو پاکستان کی اصل طاقت اور وحدت کی علامت ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ تحریکِ آزادی سے لے کر محترمہ فاطمہ جناح کی قیادت تک، پاکستانی خواتین نے قومی تعمیر اور استحکام میں نمایاں کردار ادا کیا، جبکہ آج بھی بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے متاثرہ اضلاع میں خواتین امن اور سماجی مضبوطی کے لیے صفِ اوّل میں موجود ہیں۔

قومی کمیشن نے نشاندہی کی کہ شدت پسند عناصر غربت، عدم مساوات، تعلیم کی کمی اور کمزور حفاظتی نظام سے فائدہ اٹھا کر خواتین کو نشانہ بناتے ہیں، حالانکہ تنازعاتی علاقوں میں خواتین زیادہ تر تشدد کی شکار ہوتی ہیں، نہ کہ اس کی مرتکب۔

کمیشن نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اور مربوط اقدامات کے ذریعے خواتین و بچیوں کی تعلیم و صحت تک رسائی، نفسیاتی معاونت، معاشی خودمختاری، انتہاپسندی کی روک تھام اور مؤثر حفاظتی و شکایتی نظام کو یقینی بنایا جائے۔
بیان کے اختتام پر کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خواتین امن، سلامتی اور ترقی کا مرکزی ستون ہیں اور ریاست و معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ان کے وقار اور حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.