“یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس اینڈ کشمیر” کشمیری مؤقف کی مؤثر دستاویز قرار

0

نیشنل بک فاؤنڈیشن (این بی ایف) اور کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کے آئی آئی آر) نے جمعہ کے روز کشمیر ہاؤس میں ایک باوقار تقریب کے دوران محمد یوسف ملک کی کتاب “یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس اینڈ کشمیر” کی رونمائی کی۔

تقریب کی مہمانِ خصوصی آزاد جموں و کشمیر کی وزیر برائے امورِ کشمیر، فنون و زبانیں نبیلہ ایوب خان تھیں، جبکہ دیگر معزز مہمانوں میں این بی ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر کامران جھنگیر، سابق صدر آزاد کشمیر مسعود خان، وزیرِ اعظم آزاد کشمیر کی مشیر فرزانہ یعقوب، کے آئی آئی آر کے چیئرمین الطاف حسین وانی اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی شامل تھے۔

مقررین نے بھارت کی جانب سے مبینہ مظالم کی مذمت کی، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے نفاذ پر زور دیا اور ایٹمی تناؤ کے تناظر میں خطے کو درپیش خطرات سے خبردار کیا۔

تقریب میں اعلیٰ سطحی شخصیات، انسانی حقوق کے کارکنان، سول انتظامیہ کے نمائندگان، ماہرینِ تعلیم، سول سوسائٹی کے اراکین، طلبہ اور میڈیا نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔

مہمانِ خصوصی نبیلہ ایوب خان نے بھارتی تسلط کے تحت کشمیری خواتین کی اذیت ناک صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے کتاب کو اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے مطابق عالمی سطح پر مؤثر وکالت کے لیے “اہم ہتھیار” قرار دیا۔

حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے اس کتاب کو “جبر کے خلاف روشنی کا مینار” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کی خاموشی توڑنے اور بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کے لیے متحدہ جدوجہد کی اپیل کی۔

کے آئی آئی آر کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے ریاستی جبر و تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کشمیریوں کو شامل کر کے پاک بھارت مذاکرات کا مطالبہ کیا۔

مصنف محمد یوسف ملک نے بھارتی افواج کی جانب سے یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس کی مختلف شقوں کی خلاف ورزیوں پر مبنی تصویری شواہد اور اعداد و شمار پیش کیے، اور اس بیانیے کو اقوامِ متحدہ کی رہنمائی میں امن کے لیے “ناقابلِ تردید شواہد” سے مزین قرار دیا۔

تمام مقررین نے اس تصنیف کو “ظالمانہ رویّوں” کے خلاف توانا آواز قرار دیتے ہوئے اس امر پر اتفاق کیا کہ کشمیر کا اقوامِ متحدہ کے مینڈیٹ کے مطابق حل ہی خطے میں پائیدار استحکام کا واحد راستہ ہے۔

تقریب کا اختتام کتاب کی باضابطہ رونمائی کے ساتھ ہوا، جس پر شرکاء نے اس نیک مقصد کو سراہا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.