ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ ایران بیانیہ کی جنگ پہلے جیت چکا ہے, پاکستان سمیت تمام علاقائی ممالک کے عوام ایرانی بیانیہ کوسپورٹ کررہے ہیں ,جو کے ایران کی مخالف طاقتوں پہ واضح برتری ثابت ہوتی ہے ۔
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے جمعہ کے روز کہا کہ تہران نے خطے میں جاری ’’بیانیے کی جنگ‘‘ میں مؤثر طور پر کامیابی حاصل کر لی ہے اور مشرقِ وسطیٰ سمیت پاکستان میں بھی عوامی رائے بڑی حد تک ایران کے مؤقف کے حق میں ہے۔
ایرانی ثقافتی قونصل خانے میں سینئر صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کے ساتھ منعقدہ ایک تعاملی نشست سے گفتگو کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ تاریخی طور پر عالمی طاقتوں کے درمیان مسابقت کا مرکز رہا ہے، تاہم ان کے بقول بڑی عالمی طاقتیں مسلسل سیاسی اور میڈیا دباؤ کے باوجود ایران کے بیانیے کو کمزور کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ پاکستان اور ہمسایہ ممالک میں عوامی حمایت نے خطے میں ایران کے مؤقف کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر پاکستان کے میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ حالیہ کشیدگی اور 12 روزہ تنازع کے دوران علاقائی میڈیا نے متوازن اور تعمیری رپورٹنگ کی۔
فلسطین کے معاملے پر ایران کی دیرینہ پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ تہران ہمیشہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے قیام کے بعد سے دنیا عملی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے: ایک وہ جو فلسطینی حقِ خودارادیت کے حامی ہیں اور دوسرے وہ جو اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی سطح پر مذاکرات جاری ہیں اور موجودہ حالات میں مکمل علاقائی جنگ کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔
ایران کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر نے سابق عراقی صدر صدام حسین کے دور میں مسلط کی گئی آٹھ سالہ جنگ کا ذکر کیا اور کہا کہ ایران نے اس مشکل دور کا سامنا کیا اور آخرکار مضبوط ہو کر ابھرا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار دہائیوں سے خطہ مسلسل تناؤ کا شکار ہے جس کی بنیادی وجہ ان کے مطابق اسرائیلی جارحیت ہے، تاہم ایران اس طرح کے طویل المدتی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مغربی طاقتوں پر الزام عائد کیا کہ وہ ایران کے خلاف منظم میڈیا پروپیگنڈا کر رہی ہیں، تاہم ان کے بقول منفی مہمات اور غلط معلومات علاقائی عوامی رائے کو متاثر کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سفیر نے کہا کہ پاکستان نے مختلف سفارتی فورمز، بشمول اقوامِ متحدہ، میں ایران کی حمایت کی ہے اور اہم معاملات پر تہران کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
انہوں نے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف اجتماعی یکجہتی کے ذریعے مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور اسلامی دنیا کو عالمی سطح پر مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے فلسطین میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور اسلامی ممالک سے تعمیرِ نو اور امن کے قیام میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔
عالمی حالات کو ’’معاشی جنگ‘‘ کا دور قرار دیتے ہوئے رضا امیری مقدم نے کہا کہ بڑی طاقتیں وسائل اور معاشی غلبے کے لیے شدید مسابقت میں مصروف ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی بیرونی قوت کو اپنے قومی وسائل پر خودمختاری کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گا، کیونکہ یہ وسائل ایرانی عوام کی ملکیت ہیں۔
ایرانی معاشرے میں خواتین کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر نے کہا کہ ایران کی خواتین تجارت، تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ں