صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان تمام ممالک کے ساتھ مل کر باہمی افہام و تفہیم، امن اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بات ایوانِ صدر میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام ”قیادت اور استحکام“ کے موضوع پر منعقدہ چھٹی بین الاقوامی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کے دوران کہی۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ قیادت اور استحکام وہ بنیادی ستون ہیں جن پر قومیں اور ادارے قائم ہوتے ہیں، جبکہ آج کی دنیا جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں، سلامتی کے نئے خطرات، سائبر سکیورٹی، ہائبرڈ وارفیئر اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی، وسائل کی کمی اور گمراہ کن معلومات کو سرحدوں سے بالاتر مسائل قرار دیتے ہوئے مشترکہ عالمی حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیا۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ایسی ورکشاپس پالیسی سازوں، سفارتکاروں، عسکری قیادت، ماہرینِ تعلیم اور نجی شعبے کے رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے قابلِ عمل حل تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ وہ مکالمے اور تعاون کو فروغ دیں اور سیکھے گئے اسباق کو عملی پالیسیوں میں تبدیل کریں۔
شرکا کے سوالات کے جواب میں صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان خطے اور دنیا کے ممالک کے ساتھ تکنیکی تعاون کے ذریعے اپنی ورک فورس کو مضبوط بنانے کا خواہاں ہے اور عالمی سطح پر تنازعات کے بجائے مسلسل مکالمے پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے 18ویں آئینی ترمیم کو عوامی شمولیت اور پائیدار مستقبل کی ضمانت قرار دیا۔
واضح رہے کہ اس بین الاقوامی ورکشاپ میں 49 ممالک کے 69 غیر ملکی مندوبین سمیت مجموعی طور پر 99 شرکا نے شرکت کی، جن کا تعلق صنعت، اکیڈمیا، دفاع، میڈیا اور تھنک ٹینکس سے تھا۔