فرحت شاہ
رمضان کا مبارک مہینہ زندہ لوگوں کو پھر مل گیا ہے ۔یہ ہم جیسے بھولے بھٹکے لوگوں کو اپنے رب سے جوڑنے کا سنہری موقع ہے ۔اللہ تعالیٰ کی ذات کو اپنے بندوں سے کتنا پیار ہے ؟ 70 ماؤ ں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں ایک عورت آپ کے پاس آئی اور کہنے لگی ۔آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے ۔ایک ماں تو اپنے بچے کو آگ میں نہیں پھینک سکتی،پھر اللہ تعالیٰ کیسے اپنے بندوں کو آگ میں پھینکےگا۔ آپ نے فرمایا اس کو جو ایک کو دو کہے یعنی جو شرک کرے ۔شرک کو سب سے بڑا ظلم کہا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ سب کو اس سے بچنے کی توفیق دے۔
اللہ تعالیٰ واقعی ایک ماں کی طرح سلوک کرتا ہے۔ ایک ماں بچے کی اصلاح کے لئے کبھی اسے ڈانٹتی ہے، کبھی مارتی بھی ہے ۔کبھی ناراض ہو جاتی ہے کہ جاؤ میں تم سے بات نہیں کروں گی۔اس کی ہر ادا میں اپنے بچے سے پیار نظر آتا ہے ۔ وہ ہر صورت اپنے بچے کی اصلاح چاہتی ہے۔اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں کو کبھی بھوکا رکھ کر ،کبھی پیاسا رکھ کر آزماتا ہے ۔کبھی جانوں اور مالوں کے خسارے دے کر ہمیں آزماتا ہے ۔سب سے بڑھ کر جو بات ہے کبھی مال اور اولاد زیادہ دے کر بھی دیکھتا ہے ۔کہیں مجھے بھول تو نہیں گیا۔اس مال کو اپنا کمال تو نہیں سمجھ رہا۔۔۔
ہمیں اپنی آخرت کی فکر میں دیکھنا چاہتا ہے۔اس لئے کبھی پیار سے بلکل ماں کی ٫چیجی؛ دینے کی طرح کبھی دے کر دیکھتا ہے کہ میری طرف رجوع کرتا ہے میرا اس دینے پر شکر ادا کرتا ہے،کہیں اور غافل تو نہیں ہو جاتا ۔انسان کی فطرت ہے کہ خوشحالی میں اترانے لگتا ہے۔جب مصیبت آتی ہے تو گھبرانے لگتا ہے۔لیکن وہ تو دونوں سورتوں یہی کہتا ہے اے میرے بندے میری طرف لوٹ آ۔۔۔۔ مر کر بھی اسی کے پاس جانا ہے۔اللہ چاہتا ہے کہ یہ خالی ہاتھ میرے پاس نہ لوٹے۔
ماں جیسے پیسے دے کر سودا لینے بھیجے ،آپ پیسے بھی خرچ کر آئیں اور خالی ہاتھ سودا لیے بغیر گھر واپس آجائیں تو ڈانٹ تو پڑے گی۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا میں زندگی کی ایک خاص مہلت دے کر خاص مقصد کے لئے بھیجا ہے۔ہم زندگی خرچ کر جائیں اور پھر خالی ہاتھ واپس جائیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ سزا تو دیں گے۔۔
ہم سب کو اللہ تعالیٰ سدھرنے کے نیکی کے راستے پر آنے کے اپنے قریب ہونے کے مواقع فراہم کرتا رہتا ہے۔جیسے حج کے بارے میں فرماتا ہے،کہ حج کرکے انسان اس طرح پاک صاف ہو جاتا ہے،جیسے ابھی پیدا ہوا ہو۔
نماز کی مثال بھی اسی طرح ہے ۔وہ تو صحیح وضو کا ثواب بھی دیتا ہے۔نماز میں دن میں پانچ بار ہمیں اپنے قرب سے نوازتا ہے۔یہ تو انسان پر منحصر ہے کہ وہ کتنا قرب حاصل کرتا ہے۔روزے بھی ہر سال نیکیوں کا موسم بہار کے کر آتے ہیں۔جھولیاں بھر بھر کر نیکیاں سمیٹ لیں۔اگلی سانس کا بھروسہ نہیں اگلا سال تو قسمت والوں کو ملے گا ۔جس کو رب نے اس رمضان میں داخل کر دیا وہ کوشش کرے کہ آخرت کا سامان خرید لے۔اللہ کا قرب حاصل کرلیں۔روزے بھی رکھیں۔نمازیں بھی پڑھیں،صدقات اور خیرات کے ذریعے بھی ،نوافل بھی پڑھیں ۔سب سے بڑھ کر اپنی اصلاح آپ خود کریں ۔ہر انسان کو اپنی کمزوریوں کا پتہ ہوتا ہے۔غیبت ہی کو لے لیں اکثریت کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔اس رمضان میں اللہ کے ساتھ سچا وعدہ کریں ۔اپنی کوئی ایک بری عادت اس رمضان میں چھوڑنے کا وعدہ کریں ۔اسی طرح کوئی ایک نیکی کا کام اپنی زندگی میں شامل کریں۔کوشش کریں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر نے کے لئے یہ دو کام کرنے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں نیکیوں میں سبقت لینے والا بنائے۔ہمیں اپنا حقیقی قرب عطا فرمائے ۔ہمیں اپنے پسندیدہ بندوں میں شامل کرلے آمین۔