زکوٰۃ اور فطرانہ میں کیا فرق ہے؟

0

اسلام میں زکوٰۃ اور صدقۂ فطر دونوں اہم مالی عبادات ہیں، تاہم یہ ایک دوسرے سے مختلف اور مستقل عبادتیں ہیں۔ کسی ایک کی ادائیگی دوسرے کی ادائیگی کا بدل نہیں بن سکتی، کیونکہ دونوں کا نصاب، شرائط اور اوقات جداگانہ ہیں۔

صدقۂ فطر کیا ہے اور کب واجب ہوتا ہے؟

صدقۂ فطر ہر اُس مسلمان پر واجب ہوتا ہے جو عیدالفطر کے دن یکم شوال کی صبح صادق کے وقت اپنی بنیادی ضروریات اور زیرِ استعمال اشیاء سے زائد اتنی مالیت کا مالک ہو جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔

یہ ادائیگی ہر صاحبِ نصاب شخص پر اپنی طرف سے اور اپنی زیرِ کفالت نابالغ اولاد کی طرف سے لازم ہوتی ہے۔ اس میں یہ شرط نہیں کہ مال سونا، چاندی، نقدی یا مالِ تجارت کی صورت میں ہو، اور نہ ہی اس کے لیے سال گزرنا ضروری ہے۔

صدقۂ فطر عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا افضل ہے تاکہ مستحق افراد عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔

زکوٰۃ کب فرض ہوتی ہے؟

زکوٰۃ صرف مالِ نامی پر فرض ہوتی ہے۔ مالِ نامی سے مراد وہ مال ہے جس میں بڑھنے یا نفع حاصل ہونے کی صلاحیت ہو، جیسے سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت اور چرنے والے مویشی (سائمہ جانور)۔

اگر ان میں سے کسی ایک مال یا مختلف اموال کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو اور وہ بنیادی ضروریات سے زائد ہو تو زکوٰۃ واجب ہوجاتی ہے۔ البتہ زکوٰۃ کی ادائیگی اس وقت فرض ہوتی ہے جب اس مال پر قمری سال مکمل ہوجائے۔

خلاصہ

زکوٰۃ اور صدقۂ فطر دونوں الگ مالی عبادات ہیں۔

  • صدقۂ فطر عیدالفطر سے متعلق ہے اور سال گزرنے کی شرط کے بغیر ادا کیا جاتا ہے۔

  • زکوٰۃ مخصوص اموال پر سال گزرنے کے بعد فرض ہوتی ہے۔

لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ دونوں عبادات کے احکام کو سمجھ کر بروقت ادائیگی کو یقینی بنائے تاکہ معاشرے میں ضرورت مند افراد کی کفالت ہوسکے اور دینی فریضہ بھی ادا ہو۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.