21,000 پاکستانی بیرونِ ملک قید، جسٹس پروجیکٹ پاکستان نے “ڈیٹینڈ ابروڈ” رجسٹری کا آغاز کر دیا

0

اسلام آباد: جسٹس پروجیکٹ پاکستان (JPP) نے ہائی کمیشن آف کینیڈا کے تعاون اور پارلیمنٹرینز کمیشن برائے انسانی حقوق کے اشتراک سے “ڈیٹینڈ ابروڈ” کے نام سے ایک علاقائی رجسٹری کا آغاز کیا ہے، جو انڈو پیسیفک خطے میں قید غیر ملکی شہریوں کے لیے دستیاب حقوق اور قانونی تحفظات کی دستاویز بندی کرتی ہے۔ اس پلیٹ فارم کی رونمائی اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب میں کی گئی، جس میں سفارتی مشنز کے نمائندوں، قونصلر حکام، حکومتی وزارتوں، قومی انسانی حقوق کے اداروں، سول سوسائٹی تنظیموں، اقوام متحدہ کے اداروں، وکلا اور میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔

تقریب کا آغاز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کینیڈا کے ہائی کمشنر، عزت مآب طارق علی خان کے استقبالیہ کلمات سے ہوا، جس کے بعد “ڈیٹینڈ ابروڈ” کا تعارفی پریزنٹیشن پیش کیا گیا۔ اس میں رجسٹری کا جائزہ اور قونصلر حکام، وکلا اور سول سوسائٹی تنظیموں کے لیے اس کے عملی استعمال پر روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی الیاس چوہدری نے بھی اظہارِ خیال کیا۔

اس کے بعد ایک مشاورتی نشست منعقد ہوئی جس میں سول سوسائٹی، حکومتی نمائندگان اور سفیروں—جن میں پاکستان میں پرتگال کے سفیر بھی شامل تھے—نے شرکت کی۔ اجلاس میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ بہتر قانونی وسائل اور قانونی، سفارتی اور سول سوسائٹی اداروں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کے ذریعے زیرِ حراست غیر ملکیوں کو درپیش خطرات کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے۔ شرکاء میں سیکرٹری ندیم اسلم (وزارت اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ)، قومی اسمبلی و سینیٹ کی متعلقہ کمیٹیوں کے اراکین، سینیٹر ذیشان خانزادہ، ڈائریکٹر جنرل LAJA، یورپی یونین کے وفد سے مس اونا کیلی، آئرلینڈ کے سفارت خانے سے مسٹر بین ہیڈن اور مسٹر ذوالفقار حسن شامل تھے۔

پاکستان میں کینیڈا کے ہائی کمشنر نے کہا:
“کینیڈا کی حکومت اس رجسٹری کی تیاری اور آغاز میں معاونت پر خوش ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی کاوش ہے جو انڈو پیسیفک میں قید کینیڈین، پاکستانی اور دیگر شہریوں کے حقوق اور قانونی تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد دے گی۔”

“ڈیٹینڈ ابروڈ” پلیٹ فارم مختلف ممالک کے قوانین کا تجزیہ فراہم کرتا ہے، جن میں سزائے موت سے متعلق قوانین، تشدد کے خلاف تحفظ، مقامی اور بین الاقوامی قانون کے تحت قونصلر حقوق، منصفانہ ٹرائل کی ضمانتیں اور قیدیوں کی واپسی کے طریقہ کار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، پلیٹ فارم میں مقامی وکلا، سول سوسائٹی تنظیموں اور قومی انسانی حقوق کے اداروں کی ڈائریکٹری بھی شامل ہے، جس سے ہنگامی حالات میں قابلِ اعتماد مدد حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

اپریل 2024 تک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں کم از کم 1,107 غیر ملکی شہری قید ہیں، جو ایک اہم مگر اکثر نظرانداز کیا جانے والا انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ ان میں افغان شہریوں کی اکثریت 64 فیصد (703 قیدی) ہے، جبکہ بھارتی شہری 22 فیصد (245 قیدی) ہیں۔

زیادہ تر غیر ملکی شہری فارنرز ایکٹ 1946 (416 قیدی) اور کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ 1997 (119 قیدی) کے تحت قید ہیں۔ خاص طور پر بھارتی شہریوں کی بڑی تعداد کنٹرول آف انٹری ایکٹ 1952 (222 قیدی) کے تحت گرفتار ہے، جو سرحد پار گرفتاریوں میں ایک منظم رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ اعداد و شمار مضبوط قانونی تحفظ، بروقت قونصلر رسائی اور غیر ملکی قیدیوں کے بہتر تحفظ کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔

جسٹس پروجیکٹ پاکستان کے ایڈووکیسی لیڈ حارث ذکی نے کہا:
“بیرونِ ملک گرفتار غیر ملکی شہری اکثر نامانوس قانونی نظام، زبان کی رکاوٹوں اور قانونی نمائندگی یا قونصلر مدد کی کمی کا سامنا کرتے ہیں۔ ‘ڈیٹینڈ ابروڈ’ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو قابلِ رسائی قانونی معلومات فراہم کر کے ماہرین، خاندانوں اور وکلا کو ان نظاموں کو سمجھنے اور قیدیوں کے حقوق کے تحفظ میں مدد دیتا ہے۔”

یہ پلیٹ فارم خطے بھر میں قانونی ماہرین، این جی اوز اور اقوام متحدہ کے اداروں سے مشاورت اور تحقیق کے بعد تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد قانونی دفاع کو مضبوط بنانا، قونصلر روابط کو بہتر کرنا اور زیرِ حراست غیر ملکیوں سے متعلق معاملات میں مربوط ردعمل کو فروغ دینا ہے۔

تقریب کے اختتام پر سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا:
“آج کی تقریب نے ہمیں بیرونِ ملک قید پاکستانی شہریوں کو درپیش سنجیدہ چیلنجز کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اوورسیز پاکستانی ہمارے ملک کے لیے نہایت اہم ہیں—ان کی محنت نہ صرف خاندانوں کی کفالت کرتی ہے بلکہ ہماری معیشت کو مضبوط بناتی ہے اور قومی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مگر وہ صرف مزدور نہیں بلکہ پاکستان کے شہری ہیں، اور جہاں کہیں بھی ہوں، ان کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ کئی اوورسیز پاکستانیوں کو بروقت قونصلر مدد نہیں ملتی اور زبان کی رکاوٹوں کی وجہ سے وہ غیر ملکی قانونی نظام کو سمجھنے میں مزید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.