ویکسینیشن کی بدولت پاکستان میں لاکھوں جانیں محفوظ

0

پاکستان اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں زندگی بچانے والی ویکسینز کے ذریعے 16 کروڑ بچوں اور 13 کروڑ ماؤں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ بنایا ہے۔

1978 میں پاکستان کے توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) کے قیام کے بعد سے ویکسینیشن کے ذریعے 26 لاکھ بچوں کی جانیں بچائی جا چکی ہیں۔ پاکستان دنیا کے اُن پانچ ممالک میں شامل ہے جہاں ویکسینیشن کے باعث بچوں کی اموات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

طبی سائنس کی بدولت پاکستان نے 1976 میں چیچک (Smallpox) کا خاتمہ کیا، جبکہ 1994 سے اب تک پولیو کے کیسز میں 99.8 فیصد کمی آئی—یعنی 20 ہزار سے کم ہو کر 2025 میں صرف 31 کیسز رہ گئے۔

اسی طرح ملک کے تقریباً 80 فیصد علاقوں میں نومولود تشنج (Neonatal Tetanus) کا خاتمہ ہو چکا ہے، جسے عالمی ادارہ صحت نے بھی تسلیم کیا ہے۔

ہر سال پاکستان میں 70 لاکھ بچوں اور 55 لاکھ خواتین کو 13 مہلک بیماریوں سے بچانے کے لیے ویکسین دی جاتی ہے، جبکہ 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی مہمات کے ذریعے حفاظتی قطرے پلائے جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے 15 ہزار ویکسینیٹرز اور 4 لاکھ سے زائد پولیو ورکرز خدمات انجام دے رہے ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی ویکسینیشن ورک فورس ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ویکسینیشن بچوں کی اموات میں 17 فیصد تک کمی لانے کا باعث بنتی ہے، اور یہ ملک میں صحتِ عامہ کا سب سے مؤثر اور کم خرچ حل ہے۔

عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات (24 اپریل تا یکم مئی) سے قبل پاکستان میں WHO کے نمائندے ڈاکٹر لوو ڈاپینگ نے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز، سائنسدانوں اور شراکت داروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ:
“ویکسینز محفوظ اور مؤثر ہیں، اور یہ لاکھوں بچوں کی زندگیاں بچانے کا سب سے طاقتور ذریعہ ہیں۔”

ویکسینیشن نہ صرف جانیں بچاتی ہے بلکہ بیماریوں، معذوری اور ہسپتال داخلوں میں بھی نمایاں کمی لاتی ہے، جس سے صحت کے نظام پر بوجھ کم ہوتا ہے اور لوگوں کو بہتر معیارِ زندگی ملتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.