الٹرا پراسیسڈ خوراک پر وارننگ لیبلز فوری نافذ کرنے کا مطالبہ

0

اسلام آباد:پاکستان نیشنل آرٹ ایسوسی ایشن(پناہ) نے ماہرینِ صحت، سول سوسائٹی تنظیموں، صارفین کے حقوق کے علمبرداروں اور ماہرینِ تعلیم کے ہمراہ حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ الٹرا پراسیسڈ خوراک اور مشروبات پر لازمی فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز (FOPWL) کے نفاذ کے عمل کو فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ ان مصنوعات کے استعمال میں کمی لائی جا سکے، صارفین کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور صحت مند غذائی انتخاب کو فروغ دیا جا سکے۔

پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ثنا ء اللہ گھمن نے کہا کہ باشعور صارفین اور صحت مند غذائی ماحول پاکستان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے غیر متعدی امراض کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔پاکستان اس وقت غیر متعدی امراض (NCDs) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے بوجھ کا سامنا کر رہا ہے، جو حکومت اور عوام دونوں پر صحت اور معیشت کے حوالے سے بھاری اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ ان بیماریوں کی ایک بڑی وجہ غیر صحت مند غذائی عوامل ہیں، جن میں نمک، چینی، ٹرانس فیٹس، سیچوریٹڈ فیٹس اور نان شوگر سویٹنرز کا زیادہ استعمال شامل ہے۔ الٹرا پراسیسڈ خوراک اور مشروبات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ان مضر اجزاء کی کھپت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اسی تناظر میں وزارتِ قومی صحت نے دنیا بھر سے ثابت شدہ اصولوں سے ہم آہنگ ایک تجویز وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے ذریعے Pakistan Standards and Quality Control Authority (PSQCA) کو ارسال کی، جو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی سفارشات کی روشنی میں تیار کی گئی تھی۔ الٹرا پراسیسڈ خوراک اور مشروبات پر فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے نفاذ سے متعلق یہ اہم تجویز گزشتہ دو برس سے پی ایس کیو سی اے کی مختلف تکنیکی کمیٹیوں میں زیرِ غور ہے۔

ثناء اللہ گھمن نے مزید کہا کہ ہم اس حوالے سے پی ایس کیو سی اے اور قومی ماہرین کی جانب سے اب تک ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہیں، تاہم حکومتِ پاکستان سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ الٹرا پراسیسڈ خوراک اور مشروبات پر لازمی فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے نفاذ کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے۔ فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز ایک مؤثر پالیسی اقدام ہیں جو مصنوعات کے سامنے سادہ اور واضح غذائی معلومات فراہم کرتا ہے، تاکہ صارفین کم شرح خواندگی کے باوجود بھی باخبر خریداری کے فیصلے کر سکیں اور صحت مند متبادل کا انتخاب کر سکیں۔ وہ غذائی مصنوعات جو عالمی ادارہ صحت (WHO) کی مقرر کردہ حد سے زیادہ چینی ، ٹرانس فیٹس، اور نمک پر مشتمل ہوں یا جن میں نان شوگر سویٹنرز شامل ہوں، ان پر اردو زبان میں انتباہی لیبل لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔”انہوں نے کہا کہ عالمی اور قومی سطح پر دستیاب مستند شواہد، بشمول جریدہ The Lancet میں حالیہ شائع ہونے والی متعدد تحقیقات، فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلنگ پالیسی کو خصوصاً کم شرح خواندگی رکھنے والے معاشروں میں ایک مؤثر اور بہترین اقدام قرار دیتی ہیں۔

ثنا ء اللہ گھمن نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ خوراک کی صنعت کے بعض حلقے اور ان کے حمایتی گروپس اس اہم عوامی صحت اور صارفین کے تحفظ کی پالیسی کو مؤخر یا کمزور کرنے کے لیے پالیسی سازوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پالیسی سازی کا عمل آزاد سائنسی شواہد اور عوامی صحت کی ترجیحات کے مطابق ہونا چاہیے اور اسے تجارتی مفادات کے غیر ضروری اثر و رسوخ سے پاک رکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے کئی ممالک قابلِ اطلاق بین الاقوامی قوانین کے تحت فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز نافذ کر چکے ہیں جبکہ کوڈیکس ایلیمینٹیریس کمیشن بھی اس حوالے سے رہنمائی فراہم کرتا ہے اور فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلنگ کی مخالفت نہیں کرتا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ صنعت کی جانب سے خود اختیاری بنیادوں پر اپنائے گئے لیبلنگ نظام صارفین کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں۔ اسی لیے لازمی اور معیاری وارننگ لیبلز ناگزیر ہیں تاکہ شفافیت، یکسانیت اور صارفین خصوصاً بچوں اور دیگر کمزور طبقات کے مساوی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور عوامی صحت کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
ماہرینِ صحت، صارفین کے حقوق کے نمائندوں، سول سوسائٹی تنظیموں اور محققین کے اس گروپ نے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی اور پی ایس کیو سی اے سے درج ذیل فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے:
* عالمی ادارہ صحت کے تجویز کردہ نیوٹرینٹ پروفائل ماڈلز کی بنیاد پر لازمی فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے نفاذ کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے، جیسا کہ وفاقی وزارتِ قومی صحت کی شواہد پر مبنی تجویز میں سفارش کی گئی ہے۔
* اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ پالیسی سازی کا عمل آزاد سائنسی شواہد اور عوامی صحت کی ترجیحات کے مطابق ہو اور اسے تجارتی مفادات کے غیر ضروری اثر و رسوخ سے محفوظ رکھا جائے۔
* بچوں اور صارفین کو گمراہ کن تشہیری حربوں اور غیر صحت مند غذائی ماحول سے تحفظ فراہم کیا جائے۔
* پاکستان میں غیر متعدی امراض کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے کے لیے شواہد پر مبنی احتیاطی صحت عامہ پالیسیوں کو ترجیح دی جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.