منشیات: نوجوان نسل کے لیے تباہ کن مسئلہ

0

تحریر: محمد احمد بن یوسف (طالب علم) بینچ مارک سکول سسٹم،

منشیات کا استعمال آج کے دور میں نوجوانوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بہت سے طلبہ دوستوں کے دباؤ، سوشل میڈیا، تجسس یا ذہنی دباؤ کی وجہ سے منشیات کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ جو چیز صرف ایک بار آزمانے سے شروع ہوتی ہے، وہ آہستہ آہستہ ایک خطرناک عادت بن سکتی ہے جو انسان کی صحت، تعلیم، خاندان اور مستقبل کو تباہ کر دیتی ہے۔ اس لیے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو اس خطرے سے آگاہ کریں اور انہیں محفوظ رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

منشیات جسم اور دماغ دونوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ یہ یادداشت، سوچنے کی صلاحیت اور فیصلہ کرنے کی قوت کو کمزور کر دیتی ہیں۔ منشیات استعمال کرنے والے طلبہ کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، وہ اپنے مقاصد سے دور ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات ذہنی دباؤ، بے چینی اور جرائم کی طرف بھی مائل ہو جاتے ہیں۔ ایک غلط فیصلہ پوری زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔

نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کی ایک بڑی وجہ دوستوں کا دباؤ ہے۔ بہت سے نوجوان صرف دوسروں کی نقل کرنے یا خود کو جدید ثابت کرنے کے لیے منشیات آزما لیتے ہیں۔ کچھ لوگ گھریلو مسائل، ذہنی دباؤ یا ناکامیوں سے بچنے کے لیے بھی اس راستے کا انتخاب کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ منشیات کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید مشکلات کا سبب بنتی ہیں۔

اسلام ہر اس چیز سے منع کرتا ہے جو انسان کے جسم، دماغ یا کردار کو نقصان پہنچائے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:

"اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو۔”
(سورۃ البقرہ: 195)

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"اے ایمان والو! بے شک شراب، جُوا، بت اور فال نکالنے کے تیر شیطان کے ناپاک کام ہیں، لہٰذا ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔”
(سورۃ المائدہ: 90)

یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ اسلام ہر قسم کی نشہ آور چیزوں سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"ہر نشہ آور چیز شراب ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔”
(صحیح مسلم)

یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر وہ چیز جو عقل پر پردہ ڈال دے اور انسان کی سوچ اور فیصلے کو متاثر کرے، اسلام میں ممنوع ہے۔

پاکستان میں اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) منشیات کے خلاف اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ ادارہ منشیات کی اسمگلنگ روکنے، منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کرنے اور اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آگاہی مہمات چلانے کا کام کرتا ہے۔ ANF نوجوانوں کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کرتی ہے تاکہ وہ صحیح فیصلے کر سکیں اور ایک محفوظ مستقبل کی طرف بڑھیں۔

والدین، اساتذہ، علماء کرام اور معاشرے کے دیگر افراد بھی نوجوانوں کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر بچوں کے ساتھ کھل کر بات کی جائے، ان کی مشکلات کو سمجھا جائے اور انہیں اسلامی تعلیمات سے جوڑا جائے تو انہیں منشیات جیسے خطرناک راستے سے بچایا جا سکتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں بھی آگاہی پروگرام باقاعدگی سے منعقد ہونے چاہییں تاکہ طلبہ اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھ سکیں۔

آخر میں، منشیات صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کو متاثر کرتی ہیں۔ اسلام ہمیں اپنی جان، صحت اور عقل کی حفاظت کا حکم دیتا ہے۔ اگر ہم قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کریں، ANF جیسے اداروں کا ساتھ دیں اور نوجوانوں کی درست رہنمائی کریں تو ہم ایک صحت مند، محفوظ اور منشیات سے پاک معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.