اسلام آباد: پاکستان وائلڈ لائف پروٹیکشن ایوارڈز کی قومی کمیٹی نے گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر سے موصول ہونے والی نامزدگیوں کا جائزہ لینے کے بعد سال 2026 کے ایوارڈز کے لیے قومی کمیٹی نے فاتحین کا حتمی انتخاب کر لیا۔ اجلاس کی صدارت وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کے انسپکٹر جنرل (فاریسٹ) ڈاکٹر سید معظم نظامی نے اسلام آباد میں سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کے دفتر میں کی۔
اجلاس میں تینوں برفانی چیتے کے مسکن رکھنے والے علاقوں سے موصول ہونے والی 26 نامزدگیوں کا منظور شدہ اسکورنگ نظام کے تحت جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے پہلی مرتبہ کمیونٹی کنزرویشن ایوارڈ متعارف کرانے کی بھی منظوری دی، جس کا مقصد جنگلی حیات اور پہاڑی ماحولیاتی نظام کے تحفظ میں مقامی برادریوں کی خدمات کو سراہنا ہے۔ اس نئے ایوارڈ سے کمیونٹی کی سطح پر تحفظِ قدرت کی کوششوں کو فروغ ملے گا اور مقامی تحفظی تنظیموں کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
منتخب امیدواروں کو یہ ایوارڈز 31 جولائی کو ورلڈ رینجر ڈے کے موقع پر پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (PNCA)، اسلام آباد میں منعقد ہونے والی تقریب میں دیے جائیں گے۔ تقریب کا اہتمام وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ، برٹش ہائی کمیشن پاکستان اور سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن باہمی تعاون سے کر رہے ہیں۔ تقریب میں حکومتی نمائندے، قدرتی مسکن و جنگلی حیات کے تحفظ کےلئے کام کرنے والے افراد و ادارے،، جنگلی حیات کے ماہرین اور ملک بھر سے وائلڈ لائف رینجرز شرکت کریں گے، جہاں پاکستان کی جنگلی حیات اور قدرتی ورثے کے تحفظ میں نمایاں خدمات انجام دینے والے افراد کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا۔
اس سال سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کو 7 مختلف کیٹیگریز کےلئے 26 نامزدگیاں موصول ہوئیں جن میں آزاد جموں و کشمیر سے 6، گلگت بلتستان سے 8 اور خیبر پختونخوا سے 12 نامزدگیاں شامل تھیں۔ حتمی انتخاب کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا نے تین، تین جبکہ آزاد جموں و کشمیر نے ایک ایوارڈ حاصل کیا۔
قومی کمیٹی برائے ایوارڈز کے اجلاس میں سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد علی نواز، سنٹرل قراقرم نیشنل پارک، پارکس اینڈ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان کے ڈائریکٹر عابد علی، خیبر پختونخوا وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے کنزرویٹر محمد فائق خان، فشریز اینڈ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ آزاد جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر نعیم افتخار ڈار، سینئر وائلڈ لائف ماہر عاشق احمد خان، فشریز اینڈ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ آزاد جموں و کشمیر کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالشکور خان اور دیگر کمیٹی اراکین نے شرکت کی۔
وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر شذرہ منصب کھرل نے کہا کہ پاکستان وائلڈ لائف پروٹیکشن ایوارڈز ان افراد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جو ملک کے دشوار گزار علاقوں میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے صفِ اول میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان افراد کی لگن نہ صرف نایاب جنگلی حیات بلکہ پاکستان کے قدرتی ورثے اور ماحولیاتی تحفظ کو بھی محفوظ بناتی ہے۔ ایسے افراد کی خدمات کا اعتراف دراصل اس قومی عزم کا اظہار ہے کہ حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری اور آنے والی نسلوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔
انسپکٹر جنرل (فاریسٹ) ڈاکٹر سید معظم نظامی نے کہا کہ قدرتی وسائل کا تحفظ اُن افراد کی انتھک محنت سے ممکن ہوتا ہے جو روزانہ خاموشی سے اور مشکل حالات میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔ پاکستان وائلڈ لائف پروٹیکشن ایوارڈز انہی گمنام محافظوں کی خدمات کا اعتراف ہیں، جن کی مسلسل کوششیں قدرتی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے، مقامی آبادی کی مدد کرنے اور پاکستان کی قیمتی جنگلی حیات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد علی نواز نے کہا کہ ان کے تجربے کے مطابق کامیاب تحفظِ قدرت کا انحصار اُن لوگوں پر ہے جو ہر روز عملی طور پر قدرت کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رینجرز، وائلڈ لائف واچرز اور مقامی برادریاں پاکستان میں تحفظِ جنگلی حیات کی اصل طاقت ہیں۔ پاکستان وائلڈ لائف پروٹیکشن ایوارڈز انہی گمنام ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جن کی لگن سے ہماری جنگلی حیات اور قدرتی ماحولیاتی نظام محفوظ ہیں۔ ان کی خدمات اعتراف، احترام اور مسلسل تعاون کی مستحق ہیں۔
سینئر وائلڈ لائف ماہر اور کمیٹی کے رکن عاشق احمد خان نے کہا کہ ہر وائلڈ لائف رینجر، واچر اور کمیونٹی محافظ برسوں کی خاموش خدمت کی علامت ہے۔