مال 35 کے خریداروں کافوری قبضے، شفافیت اور وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ، دسمبر 2026 تک منصوبہ مکمل فعال کرنے کی اپیل

0

مال 35 راولپنڈی کے متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ مال 35 کے خریداروں کو فوری اور غیر مشروط طور پر ان کے ادا شدہ کمرشل یونٹس کا قبضہ دیا جائے، غیر واضح ایسکلیشن چارجز ختم کیے جائیں، کرائے سے متعلق وعدے پورے کیے جائیں اور منصوبے کو دسمبر 2026 تک مکمل طور پر فعال کیا جائے۔ انہوں نے پنجاب کی وزیرِاعلیٰ، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی، چیف ایگزیکٹو آفیسر راولپنڈی کینٹونمنٹ بورڈ اور اسٹیشن کمانڈر راولپنڈی کینٹونمنٹ سے معاملے کا فوری نوٹس لینے اور خریداروں کو انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔متاثرین جن میں اعتزاز الحسن، ذاکر حسین، سید زاہد حسین، ہادیہ نصرت اور محمد اعجاز شامل تھےنے راولپنڈی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مال 35 زمین ڈاٹ کام، زمین ڈیولپمنٹ اور الہی بخش کنسٹرکشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کا مشترکہ منصوبہ ہے، جس کا آغاز 2019 میں کیا گیا تھا جبکہ معاہدوں کے مطابق منصوبے کی تکمیل نومبر 2022 میں ہونا تھی، تاہم اگست 2026 تک متعدد خریدار اپنے دکانوں اور کیاسک کا قبضہ حاصل نہیں کر سکے۔ خریداروں کے مطابق انہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اس منصوبے میں اس امید پر لگائی تھی کہ انہیں بروقت قبضہ اور کرائے کی آمدنی حاصل ہوگی، مگر طویل تاخیر کے باعث انہیں شدید مالی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔متاثرہ خریداروں کا کہنا تھا کہ مال 35 کے ہوٹل اپارٹمنٹس فروری 2025 سے فعال ہیں، تاہم کمرشل دکانوں اور کیاسک کے خریدار تاحال اپنی چابیوں کے منتظر ہیں۔ ان کے مطابق سو سے زائد متاثرہ خاندان ’’مال 35 بائرز کلیکٹو گروپ‘‘ کے پلیٹ فارم پر متحد ہو چکے ہیں تاکہ اپنے جائز حقوق کے لیے مشترکہ طور پر آواز بلند کر سکیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض ایسے خریدار جنہوں نے اپنی اقساط مکمل طور پر یا بڑی حد تک ادا کر دی تھیں، انہیں بعد ازاں ایسکلیشن چارجز کے نام پر بھاری اضافی رقوم کی ادائیگی کے خطوط جاری کیے گئے۔ خریداروں کے مطابق صرف گروپ کے 13 ارکان کو جاری کیے گئے ایسے مطالبات کی مجموعی مالیت تین کروڑ روپے سے زائد ہے، جبکہ انفرادی طور پر چار لاکھ سے 60 لاکھ روپے تک اضافی رقم طلب کی گئی۔ خریداروں کا کہنا تھا کہ انہیں ان اضافی رقوم کے تعین کے لیے کوئی واضح حساب، انڈیکس یا فارمولا فراہم نہیں کیا گیا۔پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ معاہدوں کے تحت متعدد خریدار 85 سے 90 فیصد تک ادائیگیاں کر چکے ہیں، جبکہ بعض خریداروں نے ایسکلیشن اور قبضہ چارجز بھی ادا کیے، اس کے باوجود انہیں نہ تو یونٹس کا قبضہ دیا گیا اور نہ ہی وعدے کے مطابق کرائے کی ادائیگی کی گئی۔ خریداروں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مختلف اوقات میں انہیں مختلف شرائط، ٹائم لائنز اور معاہداتی نکات سے آگاہ کیا گیا اور قبضے سے قبل نظرثانی شدہ دستاویزات پر دستخط کے لیے بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔متاثرین نے مال 35 کے خریداروں پر عائد ٹیکسز پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے خریداروں سے بھی ٹیکس وصول کیا گیا جنہیں ابھی تک اپنے یونٹس کا قبضہ نہیں ملا۔ ان کے مطابق ہوٹل اپارٹمنٹس کے مالکان کی کرائے کی آمدنی سے بھی ٹیکس کی مد میں بھاری رقوم منہا کی گئیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہر ٹیکس کی نوعیت، شرح، قانونی بنیاد اور جمع کرائی گئی رقم کا ثبوت خریداروں کو فراہم کیا جائے اور بلاجواز وصول کی گئی رقوم واپس کی جائیں۔خریداروں کا مزید کہنا تھا کہ مال 35 کی جانب سے تحریری طور پر لیزنگ کے خصوصی حقوق اور قیمتِ خرید پر کم از کم پانچ فیصد کرائے کی آمدنی کی توقع دلائی گئی تھی، تاہم ان تحریری یقین دہانیوں کے باوجود لیزنگ اور کرائے سے متعلق وعدوں پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ ان کے مطابق مزید تاخیر، نئے مالی یا ٹیکس واجبات، قبضے کے لیے نئی شرائط اور ثانوی معاہدوں کے ذریعے خریداروں کے سابقہ حقوق محدود کیے جانے کے خدشات بھی موجود ہیں۔متاثرہ خریداروں نے مطالبہ کیا کہ مال 35 کو دسمبر 2026 تک مکمل طور پر فعال کرنے کے لیے واضح اور قابلِ عمل ٹائم لائن دی جائے، تمام واجبات ادا کرنے والے خریداروں کو فوری اور غیر مشروط قبضہ دیا جائے، بلاجواز ایسکلیشن چارجز ختم کیے جائیں اور معاہدوں کے مطابق وعدہ کردہ کرایہ ادا کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اصل معاہدوں کا احترام کیا جائے اور کسی خریدار کو ثانوی معاہدوں کے ذریعے اپنے قانونی و معاہداتی حقوق سے دستبردار ہونے پر مجبور نہ کیا جائے۔متاثرہ خریداروں نے پنجاب کی وزیرِاعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ ذاتی دلچسپی لے کر معاملے کے حل میں کردار ادا کریں جبکہ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی، سی ای او راولپنڈی کینٹونمنٹ بورڈ اور اسٹیشن کمانڈر راولپنڈی کینٹونمنٹ سے بھی فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کا بروقت اور منصفانہ حل نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو ریلیف فراہم کرے گا بلکہ اوورسیز پاکستانیوں کے پاکستان میں سرمایہ کاری کے اعتماد کو بھی بحال کرے گا۔خریداروں نے خبردار کیا کہ اگر مسئلہ حل نہ کیا گیا تو وہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان، قومی احتساب بیورو اور وفاقی تحقیقاتی ادارے سمیت دیگر متعلقہ فورمز سے رجوع کریں گے اور ضرورت پڑنے پر تحقیقات اور قانونی کارروائی کی درخواست بھی کی جائے گی۔متاثرہ خریداروں نے واضح کیا کہ ان کی جانب سے پیش کیے گئے تمام دعوے ان کے پاس موجود معاہدوں، ادائیگیوں کے ریکارڈ، تحریری مراسلات اور دیگر دستاویزی شواہد پر مبنی ہیں اور وہ کسی بھی مجاز ادارے کے سامنے یہ شواہد پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.