پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) نے اپنی اتحادی تنظیموں کے تعاون سے الٹرا پراسیسڈ مصنوعات (UPPs) پر فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز (FOPWL) کے لازمی نفاذ کے لیے ملک گیر مہم مزید تیز کر دی ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر پناہ نے پناہ لائرز فورم تشکیل دیا ہے، جس کا مقصد قانونی معاونت حاصل کرنا، پالیسی سازی کے لیے مؤثر آواز بلند کرنا اور غیر صحت بخش غذائی مصنوعات کے بارے میں واضح اور شفاف معلومات تک صارفین کے حقِ رسائی کو فروغ دینا ہے۔ تقریب میں پاکستان کڈنی پیشنٹس ایسوسی ایشن، ہارٹ فائل، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشنز کے نمائندوں نے شرکت کی۔
پناہ کے صدر میجر جنرل (ر) مسعود الرحمٰن کیانی نے پاکستان میں غیر متعدی بیماریوں کی تشویشناک صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہونے والی مجموعی اموات میں تقریباً 60 فیصد اموات غیر متعدی بیماریوں کے باعث ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ساڑھے تین کروڑ سے زائد افراد ذیابیطس کا شکار ہیں، جبکہ موٹاپا، امراضِ قلب اور خوراک سے منسلک دیگر بیماریاں خاندانوں اور ملکی نظامِ صحت پر مسلسل بھاری بوجھ ڈال رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”صارفین کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ جان سکیں کہ وہ کیا کھا رہے ہیں۔”
پناہ کے جنرل سیکرٹری ثناء اللہ گھمن نے کہا کہ فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کا لازمی نفاذ اس لیے ضروری ہے تاکہ عوام کو ایسی غذائی مصنوعات کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جا سکیں جن میں چینی، نمک اور غیر صحت بخش چکنائی کی مقدار ضرورت سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہ انتباہی لیبلز صارفین کو باخبر اور صحت مند غذائی انتخاب کرنے میں مدد دیں گے اور صحت مند غذائی ماحول کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوامی صحت کا تحفظ پالیسی سازوں، قانون دانوں، تعلیمی اداروں، طبی ماہرین، میڈیا اور سول سوسائٹی کی مشترکہ کوششوں کا تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں، بالخصوص پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA)، پر زور دیا کہ وہ تجارتی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز سے متعلق لازمی قواعد و ضوابط کی منظوری اور ان کے نفاذ کا عمل تیز کریں۔
نوتشکیل شدہ پناہ لائرز فورم کی نمائندگی کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ایڈووکیٹ جناب اخلاق اعوان نے پناہ کی اس کاوش کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا اور صارفین کے حقوق اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے قانونی برادری کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ”غذائی مصنوعات کے بارے میں درست معلومات تک رسائی صارفین کے حقوق اور مفادِ عامہ کا معاملہ ہے۔ قانونی برادری لازمی انتباہی لیبلز کے نفاذ کی جدوجہد میں پناہ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ ہم متعلقہ قانونی و ضابطہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے اور عوامی صحت کے اس اہم اقدام کے نفاذ میں حائل ممکنہ قانونی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اپنی قانونی مہارت اور ادارہ جاتی تعاون فراہم کریں گے۔”
شرکاء نے متفقہ طور پر حکومت پر زور دیا کہ وہ تجارتی مفادات پر عوامی صحت کو ترجیح دے، الٹرا پراسیسڈ مصنوعات پر واضح اور عام فہم انتباہی لیبلز کا لازمی نفاذ یقینی بنائے اور بچوں، نوجوانوں اور آنے والی نسلوں کو خوراک سے منسلک قابلِ انسداد بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے فوری ضابطہ جاتی اقدامات کرے۔اتحادی تنظیموں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے لازمی نفاذ کو عملی حقیقت بنانے تک مشترکہ جدوجہد اور پالیسی سطح پر کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔