قذافی اسٹیڈیم لاہور میں تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرے اسٹیڈیم میں شاہین شاہ آفریدی کی قیادت میں ٹیم پاکستان نے 31 اکتوبر کی رات برقی قمقموں میں مہمان سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کو 9 گیندوں قبل فائنل میں 3 وکٹ سے شکست دے کر ٹرائی سیریز کی جگمگاتی ٹرافی پر قبضہ جماتے ہوئےچیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
اس طرح ٹیم نے پاکستان کرکٹ پر اٹھتی انگلیوں اور تنقید کے آگے کسی حد تک بند باندھنے کی کوشش کی ایسا لکھا جائے،تو کسی حد تک مناسب ہوگا،کیو نکہ یہ وہی پاکستان کرکٹ بورڈ اور کھلاڑی ہیں ،جو کئی ماہ سے اپنے کام اور پرفارمنس کے تناظر میں لگی بندھی تنقید کے نشتر کھا کر بہت حد تک گھائل تھے۔
درست کہ راولپنڈی اور لاہور میں 18 سے 31 اکتوبر 2026 تک کھیلے گئے ڈبل لیگ کے اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے شاندار میزبانی کیاور قومی کرکٹ ٹیم ایونٹ کے 5 میچوں میں صرف ایک بار شکست کے گڑھے میں گری۔
البتہ اس صورتحال کے باوجود جہاں آج ہر جانب قومی کرکٹ ٹیم کی فتح اور چیمپئن بننے کی کہانی زبان زد عام ہے، وہیں اس حقیقت کو بھی کھلے دل سے تسلیم کرنا بنتا ہے کہ چیئرمین سید محسن رضا نقوی جہاں ٹیم کی ناکامی پر اپنی ٹیم کے فیصلوں کے حوالے سے ہدف تنقید رہتے ہیں ،وہیں جیت پران کو مبارکباد نا دینا قدرے نا انصافی کے مترادف ہوگا۔
کپتان شاہین شاہ آفریدی کی قیادت میں کھیلنے والی ٹیم پاکستان کی ٹرائی سیریز میں کامیابی کا خلاصہ کیا جائے تو راولپنڈی میں سری لنکا کو 37 اور انگلینڈ کو 87 رنز سے ہرانے والی گرین شرٹس نے قذافی اسٹیڈیم میں انگلینڈ کو سنسنی خیز مقابلے میں ایک وکٹ کی شکست سے دوچار کیا۔
جب کہ آخری لیگ میچ میں کوشل مینڈس کی سری لنکن ٹیم نے پاکستان کو ایونٹ میں 27 اکتوبر کو یک طرفہ مقابلے کے بعد 31.5 اوورز قبل 8 وکٹ کی ہزیمت سے دوچار کیاالبتہ فائنل میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم 8 وکٹ پر 325 رنز بناکر بھی خالی ہاتھ رہی۔
ٹرائی سیریز کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم کو نوجوان وکٹ کیپر مرزا سعد بیگ کی شکل میں ایک ایسا ہونہار وکٹ کیپر ملا ،جس نے نمبر 4 پر کھیل کر پاکستان بیٹنگ لائن اپ میں ایک نیا کردار حاصل کیا،حسن نواز نے مڈل آرڈر میں خود کو ایڈجسٹ کیا،تو ٹی 20 ٹیم کی قیادت سے ہٹائے جانے والے سلمان علی آغا نے مڈل آرڈر میں ایک بیٹنگ آل راؤنڈر کی حیثیت سے ٹیم پاکستان کے مسائل کو سمیٹنے کی کسی حد تک کوشش ضرور کی ہے۔
25 اکتوبر 2026 کو نمبر 8 پر انگلینڈ کے خلاف کیرئیر بیسٹ 113 ناٹ آؤٹ کی اننگز کھیل کر آل راونڈر شاداب خان نے اپنے وائٹ بال کیرئیر پر "فل اسٹاپ” لگنے کے فیصلے کو ٹال دیا،جب کہ آل راؤنڈر عرفات منہاس نے ٹرائی سیریز کے 5 مقابلوں میں 149 رنز اور 9 وکٹ کی کارکردگی کیساتھ Player of the series کی ٹرافی تھام کر اپنے تابناک مستقبل کی نوید سنائی ہے۔
ٹرائی سیریز میں پاکستان نے 16 رکنی اسکواڈ میں مسڑی اسپنر ابرار احمد اور وکٹ کیپر غازی غوری کے علاوہ 14 کھلاڑیوں کو کھلایا،جہاں ایونٹ کے دوران ہی بغیر کھیلے سفیان مقیم کی جگہ صاحبزادہ فرحان اور ناکام صائم ایوب کی جگہ معاذ صداقت نے لی ،البتہ 2 میچوں میں وہ کچھ غیر معمولی کھیل نا پیش کر سکے۔
ٹیسٹ کپتان بابر اعظم کی ناکامیوں کا سفر تھم نہ سکااور 5 میچوں میں 118 رنز اس کاکھلا اور منہ بولتا ثبوت ہے،فاسٹ بولر نسیم شاہ پر ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کا اعتماد قابل ستائش ہے،البتہ دائیں ہاتھ کے تیز بولر 4 میچوں میں 31 اوورز میں 198 رنز کے بدلے 5 وکٹ ہی لے سکے،اسپیڈ اسٹار حارث رؤف جنھوں نے فائنل میں انتہائی ذمہ دارانہ بولنگ کی ،ان کی رفتار اور 7 وکٹ کی پرفارمنس پاکستان فاسٹ بولنگ کے لئے انتہائی عمدہ خبر ہے۔
کپتان شاہین شاہ آفریدی کی قیادت اور بولنگ پرفارمنس کے بعد صرف اتنا ہی لکھا جاسکتا ہے،کہ ون ڈے کرکٹ میں ICC World Cup 2027 سے قبل وہ درست سمت میں سفر کر رہے ہیں، فائنل میں 99 گیندوں پر 127 رنز کی باری کھیلنے والے فخر پاکستان فخر زمان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ وائٹ بال کرکٹ میں فی الحال پاکستان کرکٹ کی ضرورت ہیں ۔
ٹرائی سیریز ختم ہوگئی،پاکستان جیت گیالیکن ابھی یہ صرف شروعات ہیں ،پاکستان کرکٹ بورڈ کے تھنک ٹینک اور ٹیم مینجمنٹ کو ابھی بہت آگے جانا ہے،ٹاپ آرڈر سے لے کر مستند اسپنر پر انحصار درحیقیت پاکستان ون ڈ ے ٹیم کے لئے یہ ایک اصل چیلنج ہے،جس سے متعلق ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور کپتان شاہین شاہ آفریدی کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔
تجربے کار کھلاریوں کو بیٹنگ اور بولنگ میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا،اور پرفارمینس میں مستقل مزاجی کے بغیر تواتر کیساتھ قومی ٹیم کی جیت گرین شرٹس کے لئے ایک امتحان بن سکتا ہے ۔