حمیرہ اصغر کی لاش کو قبول نہ کرنا معاشرتی اور صنفی تعصب کی عکاسی ہےچیئرپرسن

"موت کو تذلیل سے پاک رہنے دیں" , این سی ایس ڈبلیو کی چیئرپرسن کی حمیرہ اصغر کے ساتھ ناروا سلوک پر شدید مذمت

0

قومی کمیشن برائے وقار نسواں (این سی ایس ڈبلیو) کی چیئرپرسن ام لیلی اظہر نے اداکارہ حمیرہ اصغر کی پراسرار موت سے متعلق پریشان کن حقائق کے منظر عام پر آنے اور بالخصوص ان کے خاندان کی جانب سے ان کی لاش کو قبول نہ کرنے کے شرمناک عمل کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص پیشے، طرز زندگی، یا عوامی تاثرات سے قطع نظر، موت کے وقت ترک کیے جانے کا مستحق نہیں۔ موت کے بعد ایک عورت اور عورت سے بڑھ کر بیٹی جیسے خوبصورت اور مقدس رشتے کو قبول کرنے سے انکار کرنا ایک گہری پریشان کن صنفی تعصب، سماجی بدنامی، اور خواتین کے وقار کو برقرار رکھنے میں اجتماعی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔
این سی ایس ڈبلیو حمیرا اصغر کی تدفین کے اقدام کے لیے آگے بڑھنے اور ذمہ داری لینے پر سندھ کے محکمہ ثقافت کو سراہتا ہے۔ تاہم، حمیرا اصغر کے اپنے خاندان کی طرف سے اس کی میت کو مسترد کرنا پدرانہ رویوں کا ایک عکاس ہے جو ہمارے معاشرے میں خواتین کی زندگیوں اور موت کے احترام کو مسلسل گرا رہے ہیں۔

ہم معاشرے کے تمام طبقات، خاص طور پر میڈیا اور ثقافتی اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سنسنی پھیلانے سے باز رہیں اور اس کے بجائے عزت، ہمدردی، اور خواتین کے ساتھ زندگی اور موت دونوں میں یکساں سلوک کی وکالت کریں۔

این سی ایس ڈبلیو کا حکومت سندھ اور تحقیقاتی اداروں سے حمیرا اصغر کی موت کی وجہ کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے اور پاکستان میں ہر عورت کے وقار، حقوق اور انسانیت کے تحفظ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.