از قلم: آمنہ اسحاق عباسی
amnaishaqabbasi@gmail.com
گزشتہ دنوں نوجوان صحافی حسیب چوہدری کا ایک کالم "کشمیر کمیٹی مسلسل ناکام کیوں؟” نظروں سے گزرا، جس نے مسئلہ کشمیر اور بالخصوص کشمیر کمیٹی کی ناکامیوں پر ایسے ٹھوس سوالات اٹھائے کہ دل تڑپ اٹھا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہ سوالات آج نئے نہیں، بلکہ دہائیوں سے پوچھے جا رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے بھی حکومتیں چپ تھیں، آج بھی کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ لیکن اب وقت آ چکا ہے کہ خاموشی کا یہ پردہ چاک کیا جائے، اور وہ تمام چہرے بے نقاب کیے جائیں جنہوں نے مسئلہ کشمیر کو محض سیاسی فائلوں کا مردہ صفحہ بنا کر رکھ دیا۔
کشمیر کمیٹی کیوں بنائی گئی تھی؟ – ایک تاریخی جھلک
کشمیر کمیٹی کا قیام ایک بلند مقصد کے تحت ہوا تھا۔ اس کا مقصد تھا:
1. مسئلہ کشمیر کو سفارتی محاذ پر اجاگر کرنا
2. عالمی دنیا میں کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا مقدمہ پیش کرنا
3. بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اقوامِ عالم کے سامنے بے نقاب کرنا
4. کشمیریوں کی امنگوں کا ترجمان بننا
لیکن 2025 تک آتے آتے یہ کمیٹی عملی کردار کی بجائے صرف "پریس ریلیز” کی حد تک زندہ رہ گئی ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہ ارادہ قومی خزانے پر بوجھ تو ہے، مگر کشمیریوں کے لیے کسی درد دل والے کردار سے مکمل طور پر خالی ہے۔
❖ قائدانہ بحران: جب سربراہی صرف سیاسی شہرت اور مراعات کے لیے ہو
مسئلہ کشمیر جیسا نازک، حساس اور سفارتی مہارت مانگنے والا معاملہ، ایک ایسی کمیٹی کے سپرد کیا گیا جس کی قیادت اکثر مسئلہ کشمیر سے ناواقف، غیر متعلقہ یا سیاسی رعایتوں کے تحت منتخب افراد کو دی گئی۔ کوئی مذہبی ووٹ بینک کی وجہ سے سربراہ بنایا گیا، کسی کو صرف اس لیے کمیٹی دی گئی کہ وہ حکومت پر مہربان رہے۔ حیرت کی بات ہے کہ:
* کسی بھی سربراہ نے اقوامِ متحدہ میں مؤثر انداز میں کشمیر کا مقدمہ پیش نہیں کیا
* کسی نے یورپی یونین یا او آئی سی میں کوئی مستقل اور سنجیدہ سفارتی کوشش نہیں کی
* حتیٰ کہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی پر کوئی جامع رپورٹ یا وائٹ پیپر تک دنیا کے سامنے نہیں لایا گیا
یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ کمیٹی محض مراعاتی ادارہ ہے، جسے صرف مفاد پرست سیاست دانوں کے "ریوارڈ” کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
❖ 2025 کی آزاد کشمیر حکومت: کشمیریوں کی نمائندہ یا مراعات کی خادمہ؟
2025 کا سال ہے۔ کشمیر کے نوجوان بھارتی گولیوں کے سامنے سینہ سپر ہیں۔ ان کی ماؤں کی گودیں اجڑ چکی ہیں، ان کی بیٹیاں بے حرمتی کا شکار ہو رہی ہیں، اور ان کے خواب آزادی کے سائے تلے دفن ہو چکے ہیں۔
لیکن اسی لمحے، آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت مظفرآباد میں اقتدار کی چادر تانے آرام سے بیٹھی ہے۔
❓ کوئی احتجاج؟
❓ کوئی سفارتی دباؤ؟
❓ کوئی عوامی رابطہ مہم؟
کچھ بھی نہیں۔
سوال یہ ہے:
کیا آزاد کشمیر کی حکومت صرف وزارتی گاڑیوں اور پروٹوکول کی وارث ہے؟ کیا کشمیر کا نام صرف انتخابی بینرز اور جلسوں کے نعروں کے لیے ہے؟
یہ حکومت بھی انہی سابقہ حکومتوں کی قطار میں کھڑی ہے جنہوں نے صرف کرسی کو مقدم جانا اور کشمیری عوام کی نمائندگی کو پس پشت ڈال دیا۔
❖ کشمیر کمیٹی کی مالی بدعنوانیاں – "شہ رگ” پر مراعات کی یلغار
یہ ایک کھلا راز ہے کہ کشمیر کمیٹی کے سالانہ بجٹ میں کروڑوں روپے رکھے جاتے ہیں۔ ان فنڈز کا بڑا حصہ:
* غیر ملکی دوروں
* استقبالیوں
* بے مقصد سیمینارز
* ہوٹلنگ، گاڑیوں، اور پروٹوکول
پر خرچ ہوتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے:
کیا ایک بھی کشمیری شہید کے لواحقین کو اس کمیٹی سے کوئی مدد ملی؟
کیا کسی یتیم کشمیری بچے کو کوئی تعلیمی اسکالرشپ دی گئی؟
کیا کسی مغربی ملک میں مستقل کشمیر لابی قائم کی گئی؟
جواب صرف ایک ہے: نہیں۔
❖ مسئلہ کشمیر اور دوہرا سیاسی معیار
یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ دوہری سیاسی قیادت کشمیر کو صرف سیاسی ایندھن کے طور پر استعمال کرتی ہے۔
* حزبِ اختلاف میں ہوں تو ریلیاں، نعرے، تقاریر
* اقتدار میں آئیں تو کشمیر کمیٹی جیسے ادارے سیاسی نوازشات کے بدلے بانٹ دیے جاتے ہیں یہ دوغلا پن ہی ہے جس نے کشمیری عوام کا اس پر سے اعتماد متزلزل کر دیا ہے۔ اگر دوہرا سیاسی معیار کی قیادت نے خود اپنے قومی اداروں کو سنجیدگی سے نہیں لیا، تو دنیا کیسے یقین کرے گی کہ یہ دوہرا سیاسی معیار واقعی کشمیر کے ساتھ ہے؟
❖ وہ سوالات جو آج بھی بےجواب ہیں…
حسیب چوہدری جیسے نوجوان صحافی ہمیں آئینہ دکھا رہے ہیں، لیکن کیا اقتدار کے ایوانوں تک ان کی آواز پہنچ رہی ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب کسی حکومت نے آج تک نہیں دیے:
1. کشمیر کمیٹی مسلسل ناکام کیوں ہے؟
2. اگر ہر ناکامی کی وجہ ہوتی ہے تو اس کی تحقیقات کیوں نہیں ہوئیں؟
3. کیا کسی حکومت نے کشمیر کمیٹی کی کارکردگی کا سنجیدہ جائزہ لیا؟
4. قیادت ہمیشہ نااہل افراد کو کیوں دی جاتی ہے؟
5. کیا یہ ادارہ صرف سیاسی نوازشات کا مرکز ہے؟
6. عامر لیاقت جیسے غیر متعلقہ افراد کو کیوں سربراہ بنایا گیا؟
7. سب سے زیادہ بجٹ، مگر سب سے کم کارکردگی کیوں؟
8. کیا یہ صرف مراعات کا ادارہ بن چکا ہے؟
9. حکومتیں ذمہ داروں کا تعین کیوں نہیں کرتیں؟
10. آزاد کشمیر کی حکومت دباؤ کیوں نہیں ڈالتی؟
11. کیا کشمیر کمیٹی صرف اپنے منظور نظر افراد کو نوازنے کے لیے استعمال ہوتی ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب تاریخ مانگے گی — اور شاید بہت تلخی سے دے گی۔
❖ حل کیا ہے؟ – اب بھی وقت ہے!
✅ کشمیر کمیٹی میں اصلاحات لاتے ہوئے اسے ازسرِنو ایک فعال، مؤثر، اور مقصد شناس ادارے کی حیثیت سے تشکیل دیا جائے۔
✅ اس میں صرف وہی افراد شامل کیے جائیں جو مسئلہ کشمیر کی تہہ داری، بین الاقوامی سفارت کاری اور تاریخی تناظر سے بخوبی واقف ہوں — وہ لوگ جو نہ صرف زبان سے بلکہ دل و دماغ سے کشمیریوں کے درد کے شریک ہوں۔
✅ کمیٹی کی قیادت کسی سیاسی خوشنودی کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اہلیت، دیانت اور وابستگی کے اصول پر کی جائے۔
✅ آزاد کشمیر کی حکومت کو تماشائی بننے کے بجائے فعال سفارتی و عوامی نمائندہ بننا ہوگا۔ اگر وہ کشمیریوں کی نمائندگی سے قاصر ہے، تو عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ ایسی قیادت کو مسترد کریں۔
❖ اگر اب بھی نہ جاگے تو؟
اگر ہم نے آج بھی آنکھیں موند لیں، تو نہ صرف کشمیر کمیٹی دفن ہو جائے گی، بلکہ ہماری قومی غیرت، سفارتی ساکھ اور کشمیریوں کا اعتماد بھی دفن ہو جائے گا۔
تاریخ ہمیں صرف بے حس نہیں، بلکہ شریکِ جرم لکھے گی۔
اب بھی اگر ہم نہ جاگے… تو شاید کل جاگنے کے لیے کچھ باقی ہی نہ رہے۔
یہ وقت فیصلہ کن ہے — اب نہیں، تو کبھی نہیں!
اُٹھ کہ ظلمت کے سمندر میں چراغاں کر دے
اے اسیرانِ چمن! وقتِ فغاں ہے، نہ کہ خاموشی کا
بہت خوب ،
بالکل حقیقت ، لیکن یہ حقائق جاننے کے بعد بھی کسی کو پرواہ نہیں ، کسی پر کوئی اثر نہیں ، حکومت تو حکومت ہمارے عوام بھی اپنا حق لینے کے لئے نہیں بولتے ، بحر حال آپکا نقطہ بہت اہمیت کا حامل ہے ۔
کشمیر کمیٹی سمیت کشمیر کے نام پر چلنے والے جملہ کاروبار فراڈ ہیں یہ سب کشمیری سمجھتے ہیں لیکن اپنے معاش اور سماج کی مجبوریوں کی وجہ سے چپ ہیں
ہندوستانی مقبوضہ پونچھ میں یتیم ہونے والے گیارہ بچوں کی کفالت راہول گاندھی نے اپنے ذمہ لی ہے اس طرف کسی کو توفیق بھی نہیں ہوتی کہ وہ اس پر کوئی گفتگو کرے
اللہ کریم کشمیریوں کا بہتر سبب فرمائے آمین
Kashmir comitee ko khatam hi ho jana chaia jald sa jald. Yah sirf frad ha kashmir k nam pa
آپ کا کالم بالکل درست نکتہ اٹھاتا ہے کہ کشمیر کمیونٹی کی داخلی تقسیم اور سیاستدانوں کی غیر ذمہ داری سے مسئلہ کشمیر کی بھرپور نمائندگی متاثر ہوئی ہے۔ اس کے باوجود، عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ کو کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے مزید فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ کشمیر کی حقیقی آواز کو دنیا تک پہنچانے کے لیے ہمیں اتفاق اور متحدہ محنت کی ضرورت ہے۔
کشمیر کمیونٹی کی منتشر آواز اور سیاستدانوں کی غیر ذمہ داری نے نہ صرف مسئلہ کشمیر کو پیچیدہ بنایا بلکہ اس کی عالمی پہچان کو بھی محدود کر دیا۔ اگر ہم واقعی اپنے مقصد کے نشانے پر پہنچنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی داخلی خامیوں کو دور کرکے اتحاد اور ذمہ داری کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔ یاد رکھیں، مسئلہ کشمیر صرف سیاستدانوں کا نہیں، بلکہ ہر کشمیری کا اخلاقی اور تاریخی فریضہ ہے کہ وہ عالمی فورمز پر اپنی زبان واضح اور متحد رکھے۔ یہی ایک حقیقی فتح کی کنجی ہے۔
– ہمیں سمجھنا ہوگا کہ کشمیریت صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے جو ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے نبھانی ہے۔
– قوم کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب ہم ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر اجتماعی بھلائی کو ترجیح دیں۔
– تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جیت ہمیشہ ان کی ہوتی ہے جو متحد رہتے ہیں اور مشکل حالات میں بھی ثابت قدم رہتے ہیں۔
– اقوام متحدہ کی قراردادیں ہمیں راہ دکھاتی ہیں، مگر اصل کامیابی ہمارے عزم اور یکجہتی میں پوشیدہ ہے۔ 😊