2025 میں ملک بھر میں مجموعی کیسز کی تعداد 18 ہو گئی
اسلام آباد: قومی ادارہ صحت (NIH) کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے پولیو کا ایک اور کیس رپورٹ کیا ہے، جو ضلع ٹانک، جنوبی خیبرپختونخوا کی یونین کونسل ملازئی کے 10 ماہ کے بچے میں سامنے آیا ہے۔ یہ کیس نہ صرف ضلع کے لیے تشویشناک ہے بلکہ یہ 2025 میں صوبے میں پولیو کا گیارہواں اور ملک بھر میں اٹھارہواں تصدیق شدہ کیس ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ وائرس کی مسلسل موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ بچے اب بھی پولیو کے خطرے سے دوچار ہیں، خاص طور پر وہ بچے جو حفاظتی ٹیکوں سے محروم ہیں یا جن کے علاقوں میں ویکسینیشن کی شرح کم ہے۔ وائرس ایسے کمزور علاقوں میں آسانی سے پھیل سکتا ہے، جس سے مقامی سطح پر معذوری اور بیماری کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
پولیو ایک نہایت خطرناک اور لاعلاج وائرس ہے جو متاثرہ بچے کو عمر بھر کے لیے مفلوج کر سکتا ہے۔ اس سے بچاؤ کا واحد مؤثر ذریعہ یہ ہے کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ہر بار انسداد پولیو مہم کے دوران قطرے پلائے جائیں اور بروقت حفاظتی ٹیکے لگوائے جائیں۔
صحت حکام نے والدین، سرپرستوں اور کمیونٹی رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیو مہم میں بھرپور حصہ لیں اور اس موذی بیماری کے خلاف قومی کوششوں کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں، تاکہ پاکستان کو جلد پولیو سے پاک ملک قرار دیا جا سکے۔