رپورٹ: سید محمد یاسین ہاشمی
لندن میں واقع تاریخی ہاؤس آف لارڈز میں ایک شاندار اور بامقصد تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں معروف برٹش ایشیائی تاجر و سماجی رہنما عطا الحق کو عالمی سطح پر شہرت یافتہ "10 ملین میل پروجیکٹ” کا برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کیا گیا۔ یہ موقع برٹش ایشین "ہُو اِز ہُو” ایوارڈز اور 10 ملین میل اپیل کے اشتراک سے منعقد ہونے والی ایک یادگار تقریب میں سامنے آیا، جس میں جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والی ممتاز کاروباری، فلاحی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب کی مہمان خصوصی بالی ووڈ اداکارہ اور اقوام متحدہ کی خیرسگالی سفیر منیشا کوئرالہ تھیں، جنہوں نے اپنے جذباتی خطاب میں کینسر کے خلاف جدوجہد، فلمی دنیا میں واپسی اور خواتین کو بااختیار بنانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے عطا الحق کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہوئے ان کی شمولیت کو مہم کے لیے ایک طاقتور قدم قرار دیا۔
اس موقع پر مسٹر عطا الحق نے سادہ اور پُرعزم انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “خوراک ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ بھوکے انسان کو کھانا دینا صدقہ نہیں، بلکہ ایک اخلاقی فریضہ ہے۔” انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس مہم کو برطانیہ اور جنوبی ایشیا میں مزید وسعت دینے اور نوجوانوں کو فلاحی سرگرمیوں میں متحرک کرنے کے لیے پائیدار شراکت داریاں قائم کریں گے۔
10 ملین میل اپیل کے بانی سجن کٹوال نے عطا الحق کی تقرری کو اعزاز قرار دیتے ہوئے ان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ تقریب میں موجود معزز شخصیات بشمول بھاونا بسنیت، ڈاکٹر شہزاد قریشی، اشرف نہال، عاصم یوسف، ویرندر شرما، لارڈ رامی رینجر اور دیگر نے عطا الحق کی تقرری کو سراہا اور مہم کی حمایت کا یقین دلایا۔
یہ شام نہ صرف خواتین کی قیادت، انسانی ہمدردی اور کمیونٹی یکجہتی کو اجاگر کرنے کا موقع بنی، بلکہ عطا الحق کی قیادت میں 10 ملین میل پروجیکٹ کے ایک نئے باب کے آغاز کا پیغام بھی لے کر آئی — ایک ایسا باب جو خدمت، امید اور عمل کی روشنی سے نئی راہیں روشن کرے گا۔
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.