پاکستان کا روشن تحفہ: ’فاسٹنگ بدھا‘ کا شاہکار مجسمہ ویتنام کے سب سے بڑے مندر کو پیش
گندھارا تہذیب کا نایاب نمونہ بائی ڈنہ پگوڈا کے سپرد، بین المذاہب ہم آہنگی اور دوستی کی نئی مثال قائم
اسلام آباد : پاکستان کے سفیر خدایار مری کے ذریعے ’فاسٹنگ بدھا‘ کی انتہائی مہارت اور احتیاط سے تیار کردہ نقل ویتنام کے سب سے بڑے بدھ مندر بائی ڈنہ پگوڈا کے حوالے کر دی گئی۔ یہ شاندار مجسمہ دوسری صدی کی گندھارا تہذیب کا نمائندہ شاہکار ہے، جو شہزادہ سدھارتھ کی سادگی، قربانی اور روحانی روشنی کی تلاش کو مجسم کرتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اصل مجسمہ سیکری، پاکستان سے دریافت ہوا تھا اور اسے لاہور میوزیم میں محفوظ رکھا گیا ہے۔ ویتنام کے لیے بطور تحفہ پیش کی گئی نقل نہ صرف فنِ مجسمہ سازی کا مظہر ہے بلکہ یہ رواداری، برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے پیغام کی حامل ہے۔
تقریب کا آغاز ویتنام بدھسٹ سنگھا کے سیکرٹری جنرل ٹچ ڈک تھن کی زیر قیادت مقدس دعاؤں سے ہوا، جبکہ بائی ڈنہ پگوڈا میں مجسمہ کا باضابطہ استقبال محترم تھیچ من کوانگ نے روایتی رسومات کے ساتھ کیا۔ اس موقع پر ویتنامی حکام، مذہبی رہنما اور دیگر معززین بھی موجود تھے۔
سفیر خدایار مری نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ یہ تحفہ پاکستان کے شاندار ورثے، تمام مذاہب کے احترام اور امن و ہم آہنگی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام رواداری اور احترام کا مذہب ہے اور اس طرح کے ثقافتی تبادلے دونوں اقوام کے درمیان سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔
قابل احترام تھیچ من کوانگ نے اس اقدام کو پاکستان اور ویتنام کے درمیان بین المذاہب خیر سگالی اور باہمی افہام و تفہیم کی علامت قرار دیا۔
تقریب کا اختتام دونوں ممالک کے درمیان پائیدار دوستی اور امن کی دعا کے ساتھ ہوا، جو اس ثقافتی ہم آہنگی کے خوبصورت باب کا ایک مضبوط پیغام ہے۔