جنیوا : عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس اڈہانوم گیبریسس نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں شدید غذائی قلت کی شرح تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں بھوک سے اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر ٹیڈروس نے جنیوا میں عالمی ادارہ صحت کے صدر دفتر سے جاری بیان میں کہا، "صرف جولائی کے مہینے میں تقریباً 12 ہزار بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہوئے، جو اب تک کی سب سے بڑی ماہانہ تعداد ہے۔”
ڈبلیو ایچ او کے مطابق یکم جنوری سے 29 جولائی 2025 تک کم از کم 99 افراد خوراک کی شدید قلت کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 64 بالغ اور 35 بچے شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والے بچوں میں سے 29 کی عمر پانچ سال سے کم تھی۔
عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت غزہ میں تقریباً 25 ہزار بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف موجودہ انسانی بحران کی شدت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ مستقبل میں صحت کے مزید سنگین مسائل کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے فلسطینی علاقوں میں نمائندے رِک پیپرکورن نے کہا، "غزہ میں امدادی ترسیلات اب بھی انتہائی محدود ہیں، موجودہ مقدار حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے ناکافی ہے۔ خوراک کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اس میں غذائی تنوع بھی ضروری ہے تاکہ بچے لازمی غذائی اجزاء حاصل کر سکیں۔”
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری، مسلسل اور بلا رکاوٹ غذائی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے تاکہ آنے والے دنوں میں مزید قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔