سید مودودی (ر ح)کا ذخیرہ ء علمی

(ایک مختصر فہرست ِ مضامین)

0

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی مرحوم
۔ سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ بیسویں صدی کی ایک نابغۂ روزگار شخصیت تھے۔ ان کی بہت سی حیثیتیں ہیں: مفسرِقرآن‘ سیرت نگار‘ دینی اسکالر ‘ اسلامی نظامِ سیاست و معیشت اور اسلامی تہذیب و تمدن کے شارح‘ برعظیم کی ایک بڑی دینی و سیاسی تحریک کے موسس و قائد‘ ایک نام ور صحافی اور اعلیٰ پاے کے انشاپرداز۔۔فکری اعتبار سے وہ گذشتہ صدی کے سب سے بڑے متکلمِ اسلام تھے۔ بیسویں صدی میں علامہ اقبالؒ نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو ایک ولولۂ تازہ عطا کیا اور ان کے اندر اسلامی نشاتِ ثانیہ کی جوت جگائی۔ مولانا مودودیؒ نے اسی جذبے اور ولولے کو اپنی نثر کے ذریعے آگے بڑھایا اور علامہ اقبال کی شاعری کے اثرات کو سمیٹ کر احیاے دین کی ایک منظم تحریک کی بنیاد رکھی‘ پھر اپنے گہربار قلم کی قوت اور غیرمعمولی تنظیمی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اس تحریک کوپروان چڑھایا۔
سید مودودیؒ نے اپنی زندگی میں کم وبیش 200کے قریب کتابیں، کتابچے اور پمفلٹ تحریر کیے اور 1000کے آس پاس تقریروں اور بیانات کا ریکارڈ ملتا ہے جس میں تقریباً سات سو کے قریب چیزیں محفوظ ہیں۔
سید مودودیؒ اُردو زبان کے سب سے بڑے مصنف ہیں۔ ’’سب سے بڑے‘‘ ان معنوں میں کہ کثیرالتصانیف مصنف تو اور بھی ہیں مگر اُردو زبان کی کئی سو سالہ تاریخ میں انھیں سب سے زیادہ چھپنے والے مصنّف کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کا حلقۂ قارئین‘ بلاشائبۂ تردید‘ اُردو کے ہرمصنّف سے زیادہ ہے۔ اس اعتبار سے ہم انھیں اُردو کا مقبول ترین مصنّف بھی کہہ سکتے ہیں۔ سید مودودیؒ کی شخصیت‘ افکار و نظریات اور ان کی تحریک کے ہمہ گیر اثرات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کی کم از کم 43 زبانوں میں ان کی تحریروں کے ترجمے شائع ہوچکے ہیں۔۔ ان کے ذخیرئہ علمی کا مطالعہ‘ ایک بے حد وسیع اور بڑا موضوع ہے۔ دنیا کی مختلف جامعات میں ان پر ایم اے‘ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے لکھے گئے ہیں‘ اور بعض پہلوؤں پر مزیدتحقیقی کام ہو رہا ہے۔ ذیل میں ہم نے تصانیفِ مودودیؒ دینے کی کوشش کی ہے۔ اس سے اندازہ ہوگا کہ موصوف کا علمی کام کس قدر وسیع الاطراف ‘ہمہ جہت اور ہمہ گیر ہے۔قرآن‘ حدیث‘ سیرت‘ فقہ‘ عقائد‘ عبادات‘ تاریخ‘ فلسفہ‘ تہذیب‘ تمدن‘ سیاست‘ معیشت‘ تعلیم‘ اجتماعیت‘ اخلاقیات‘ مغربی فکر وغیرہ۔۔۔ اُردو زبان میں کوئی اور مصنّف اس تنوع اور کثیرالجہتی میں‘ سیّدموصوف کا ہم پلّہ نظرنہیں آتا۔
فہرست:
1ـترجمہ قران مجید مع مختصر حواشی
2۔تفہیم القران (چھ جلدیں) 3ـ سیرت سرورِ عالم(ص)
جِلد اول دوئم
4۔ اسلام اور جدید معاشی نظریات
5۔اسلام اور ضبط ولادت
6۔ اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی
7۔ اسلامی ریاست
8۔ اسلامی عبادات پر ایک تحقیقی نظر
9۔ اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات
10۔ الجہاد فی الاسلام
11۔انتخابی تقاریر
12۔ پردہ
13۔تجدید و احیائے دین
14۔ تحریک آزادیِ ہند اور مسلمان (جِلد اول دوئم سوئم)
15۔ تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل
16۔ تحریک جمہوریت
17۔ تعلیمات
18۔ تفہیمات (جِلد اول تا پنجم)
19۔ تنقیحات
20۔ ترکی میں عیسائیوں کی حالت
21۔ جماعت اسلامی، اس کا مقصد، تاریخ اور لائحہ عمل
22۔ جماعت اسلامی کے 29 سال
23۔ حقوق الزوجین
24۔ حوادثِ سمرنا، اتحادی کمیشن کی رپورٹ
25۔ خطبات
26۔ خطباتِ حرم
27۔ خلافت و ملوکیت
28۔ دکن کی سیاسی تاریخ
29۔ دولتِ آصفیہ اور حکومتِ برطانیہ
30۔ دینیات
31۔رسائل و مسائل (جِلد اول تا پنجم)
32۔ سانحہِ مسجدِ اقصی
33۔ سلاجقہ
34۔سنت کی آئینی حیثیت
35۔ سود
36۔قادیانی مسئلہ
37۔ قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں
38۔مُرتد کی سزا
39۔ مسئلہِ جبر و قدر
40۔مسئلہِ قومیت
41۔ مسئلہِ ملکیتِ زمین
42۔ مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش( جِلد اول دوم سوئم)
43۔ مشرقی پاکستان کے حالات و مسائل کا جائزہ اور اصلاح کی تدبیر
44۔ معاشیاتِ اسلام
45۔ نشری تقریریں
46۔خطوطِ مودودی(جِلد اول دوئم)
47۔ مکتوباتِ مودودی
48۔ آفتابِ تازہ
49۔ ادب اور ادیب، سید مودودی کی نظر میں
50۔ اخلاقیاتِ اجتماعیہ اور اس کا فلسفہ
51۔ استفسارات( جلد اول دوئم سوئم)
52۔ اسلام کا سرچشمہِ قوت
53۔ افاداتِ مودودی
54۔ اقبال نے کیا چاہا؟
55۔ بانگِ سَحر
56۔ پانچ اے ذیلدار پارک (حصہ اول دوم سوئم)
57۔ تصریحات
58۔ جلوہء نور
59۔ خطباتِ یورپ
60۔ صدائے رستاخیز
61۔ فضائلِ قرآن
62۔کتابُ الصّوم
63۔ مسئلہِ کشمیر اور اس کا حل
64۔مولانا مودودی کی تقاریر (جلد اول دوئم)
65۔ مولانا مودودی کے انٹرویو (جلد اول دوئم)
66۔ وثائقِ مودودی
67۔ ہندوستان کا صنعتی زوال اور اس کے اسباب
68۔ المسئلۃالشرقیّہ
سید مودودی کے ذخیرہء علمی کا ایک حصہ( بیسیوں تقاریر اور مضامین) ابھی تک اخبارات اور رسائل کے اوراق میں گم ہیں۔علاوہ ازیں بعض تقاریر اور مضامین کتابوں کی صورت میں بھی ملتے ہیں۔ آخر میں یہ وضاحت مناسب ہوگی کہ بعض کتابیں سید مودودی کے متذکرہ بالا ذخیرہ ءعلمی کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہیں مثلاً •تفہیم الاحادیث (آٹھ حصے)• تحریک اور کارکن •نصرانیت، قرآن کی روشنی میں •یہودیت، قرآن کی روشنی میں• امت مسلمہ کے مسائل اور ان کا حل وغیرہ اس نوعیت کی متعدد کچھ اور کتب بھی مرتب اور شائع ہوئی ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔#

Leave A Reply

Your email address will not be published.