مولانا مودودیؒ کی فکر ہماری راہنمائی اور جدوجہد کا لازوال سرمایہ ہے: ثمینہ احسان
—اسلام کو مکمل ضابطۂ حیات کے طور پر پیش کرنے والے مجدد صدی کی علمی و فکری خدمات آج بھی نئی نسل کے لیے چراغ راہ ہیں۔
راولپنڈی :مولانا مودودیؒ ایک عظیم مفکر، مصلح اور رہنما تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن و سنت کے غلبے، دینِ اسلام کے فکری و عملی نظام اور اسلامی ریاست کے قیام کے لیے وقف کر دی۔ان خیالات کا اظہار ‘ حلقہ خواتین جماعت اسلامی، صوبہ پنجاب شمالی کی ناظمہ ثمینہ احسان نے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے یومِ وفات کے موقع پر انھیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کیا.
انہوں نے مزید کہا کہ 22ستمبر کو ہم سے وہ شخصیت جدا ہوئی جو اپنی صدی کے مجدد تھے. یہ دن یہی پیغام دیتا ہے کہ ہمیں ہر طرح کے حالات میں اللہ کے خالص دین کو زندہ دکھنا چاہیے. مولانا مودودیؒ نے دورِ جدید کے چیلنجز کا گہرائی سے جائزہ لیا اور اسلام کو ایک ہمہ گیر ضابطۂ حیات کے طور پر پیش کیا۔ آپؒ کی علمی و فکری خدمات نے نہ صرف برصغیر بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو بیدار کیا اور یہ پیغام دیا کہ اسلام محض چند رسومات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے۔
ثمینہ احسان نے کہا کہ مولانا مودودیؒ کی تحریریں آج بھی رہنمائی کا سرچشمہ ہیں اور نئی نسل کے لیے ایک فکری و عملی چراغ ہیں۔ ان کے افکار نے مسلمانوں کو یہ شعور دیا کہ دینِ اسلام ہر شعبۂ زندگی میں راہنمائی فراہم کرتا ہے اور اس کے غلبے کے بغیر دنیا امن و انصاف سے محروم رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی مولانا مودودیؒ کے مشن کی وارث ہے اور خواتین معاشرے میں قرآنی و اسلامی تعلیمات کے فروغ، اصلاحِ معاشرت اور اسلامی اقدار کے احیاء کے لیے ہر میدان میں سرگرمِ عمل ہیں۔
آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مولانا مودودیؒ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ہمیں ان کے مشن کی تکمیل کے لیے اخلاص، استقامت اور قربانی کی توفیق عطا فرمائے