گندھارا کے خاموش نوادرات سے لے کر کے ٹو کی بلند چوٹیوں تک

پاکستان نے اپنے سیاحتی خزانوں کو ڈیجیٹل دنیا میں متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا

0

شکیلہ جلیل 

shakila.jalil01@gmail.com

مردان کے تخت بھائی کے قدیم کھنڈرات پر جب سنہری صبح کی دھوپ پھیلی اور گلگت بلتستان کی وادیوں میں ٹھنڈی ہوائیں چلتی رہیں تو پاکستان دنیا کے سامنے ایک ایسی سرزمین کے طور پر ابھرا جو صدیوں پرانی تہذیبوں کی امین ہے,یہ کہانیاں پتھروں پر کندہ، زمین میں دفن اور وقت کے رنگوں میں محفوظ ہیں۔

ورلڈ ٹورازم ڈے کے موقع پر پاکستان نے نہ صرف اپنے قدرتی اور ثقافتی ورثے کو منایا بلکہ دنیا بھر میں اسے ڈیجیٹل انداز میں اجاگر کرنے کا عزم بھی کیا۔ رواں سال کا عالمی موضوع "سیاحت اور پائیدار تبدیلی” پاکستان کے لیے اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہاں تاریخ کے سنگم پر جدید دور کے تقاضے آڑے آ رہے ہیں۔

اگرچہ پاکستان میں چھ یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج سائٹس اور دنیا کی پانچ بلند ترین چوٹیاں موجود ہیں جن میں کے ٹو بھی شامل ہے، مگر یہ سب خزانے ڈیجیٹل سطح پر اب تک پوری دنیا کے سامنے اجاگر نہیں ہو سکے۔

پشاور میں ورلڈ ٹورازم ڈے کے حوالے سے سیمینارز، آگاہی واکس اور ایوارڈ تقاریب منعقد ہوئیں جن میں طلبہ، ماہرینِ آثار قدیمہ، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ان تقریبات میں ان افراد کو سراہا گیا جنہوں نے پاکستان کے ماضی کی کہانیوں کو زندہ رکھا۔

محکمہ آثار قدیمہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر بختزادہ خان نے سوان ویلی اور سنگارو غار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں سے ملنے والے انسانی اوزار اور باقیات تقریباً بیس لاکھ سال پرانے ہیں۔ "یہ مقامات محض تاریخی نشان نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ سرزمین ہمیشہ انسانی تہذیب کا گہوارہ رہی ہے۔”

تقریبات کا مرکز پشاور میوزیم تھا جہاں 30 ہزار سے زائد نوادرات گندھارا تہذیب کی کہانی سناتے ہیں۔ گندھارا تہذیب یونانی، فارسی اور بدھ مت ثقافتوں کا حسین امتزاج ہے۔ ایک طالبہ لائبہ خان نے کہا: "یہ نوادرات دیکھ کر دل چاہتا ہے کہ دنیا ان پوشیدہ خزانوں کو دیکھے۔ ہمیں ڈاکیومنٹریز، ویڈیوز اور آن لائن میوزیم ٹورز کی ضرورت ہے۔”

سابق سفیر منظور الحق نے زور دیا کہ دنیا میں سیاحت کا مستقبل ڈیجیٹل میڈیا سے جڑا ہوا ہے۔ "کے ٹو کی برفانی چوٹیوں سے لے کر موہنجو دڑو کے کھنڈرات تک پاکستان ایک مکمل کینوس ہے، مگر ہمیں ڈیجیٹل ماہرین بھرتی کرنے، وی لاگرز سے تعاون کرنے اور شارٹ فارمز میں مواد تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی سیاح اور سرمایہ کار متوجہ ہوں۔”

ماہرین نے کہا کہ پاکستان کی فطری خوبصورتی اور قدیم ورثہ جدید دور کے مسافروں کے لیے پُرکشش ہے,خواہ وہ دریائے سندھ کے کنارے ٹریکنگ ہو، سوات کے بدھ خانقاہوں کے قریب سکون تلاش کرنا ہو یا لاہور کے شاہی قلعے کی شان و شوکت دیکھنا۔

ابو ظفر، صدر ماؤنٹنز ٹورز پاکستان نے پاکستان پیج سے گفتگو میں کہا: "دنیا آج اپنے سفر میں معنی تلاش کر رہی ہے اور پاکستان کے ہر پتھر پر یہ معنی درج ہیں، ہمیں صرف دنیا کو یہ دکھانا ہے۔” انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو ورچوئل میوزیم ٹورز، 360 ڈگری ڈاکیومنٹریز، تعلیمی تعاون اور موبائل ایپس کے ذریعے اپنی تاریخ کو دنیا تک پہنچانا چاہیے۔

ورلڈ ٹورازم ڈے کی تقریبات نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان ایک نئے موڑ پر کھڑا ہے جہاں تاریخ، امن، معاشی استحکام اور ثقافتی سفارت کاری کے امکانات یکجا ہوتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.