پاکستان میں ٹیلی کام آپریٹرز کا توانائی فٹ پرنٹ تیزی سے بڑھنے لگا ،حکومتی خاموشی معنی خیز
گرین ٹیلی کام پالیسی کا اعلان 2022 میں ہوا مگر تین سال گزر نے کے باوجود کوئی فریم ورک واضح نہیں

شکیلہ جلیل
shakila.jalil01@gmail.com
پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی بازگشت تو سنائی دیتی ہے مگر جتنی سنجیدگی کی ضرورت ہے وہ کہیں نظر نہیں آتی اور اگر ڈیجیٹل دنیا کی بات کی جا ئے تو کلائمنٹ چینج کا ایشو کہیہں نظر نہیں آتا ۔
موجودہ جدید دور میں ہر شخص خؤد کو ڈیجیٹل دنیا سے ہم آہنگ کرنے کی دوڑ میں لگا ہے ،ہر طرف پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کے نعرے بلند ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں ڈیجیٹل ترقی کو قومی معیشت اور روزگار کی بنیاد سمجھا جا رہا ہے۔
5G ٹیکنالوجی، ڈیٹا سینٹرز، ای-کامنرس، اور کلاؤڈ سروسز کے پھیلاؤ سے ملک میں ایک “ڈیجیٹل انقلاب” کی فضا ہے۔
ٹیلی کام نیٹ ورکس، جو جدید زندگی کی شہ رگ ہیں، اب ماحولیاتی آلودگی کے نئے ماخذ کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ اس تیزی سے بڑھتے نیٹ ورک کے ساتھ توانائی کے بے تحاشہ استعمال، ڈیزل پر انحصار، اور کاربن اخراج میں اضافہ ایک ایسا مسئلہ بنتا جا رہا ہے جس پر شاید ہی کبھی بات کی جاتی ہو۔
سرکاری پالیسیاں 5G ٹیکنالوجی، فائبر نیٹ ورکس، ای کامرس، اور ڈیجیٹل سروسز کی رفتار بڑھانے پر مرکوز ہیں۔
مگر اسی ترقی کی چمک کے پیچھے ایک سایہ کاربن اخراج (Carbon Emissions)،کا بھی بڑھ رہا ہے ،
توانائی کا بے دریغ استعمال،
اور ماحولیاتی لاگت جو ہر گزرتے سال کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔
ٹیلی کام انڈسٹری ، جو جدیدیت کی علامت بن چکی ہے ، اب خود توانائی کے بحران اور ماحولیاتی نقصان کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔
نیٹ زیرو کے خواب اور زمینی حقائق
GSMA کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق، عالمی سطح پر موبائل نیٹ ورکس کے آپریشنز میں 75 فیصد بجلی استعمال ہوتی ہے،
اور ان میں سے ایک بڑا حصہ فوسل فیول (ڈیزل و گیس) سے حاصل کی جاتی ہے۔
پاکستان جیسے ممالک میں جہاں بجلی کی پیداوار کا 60 فیصد سے زائد حصہ اب بھی غیر قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل ہوتا ہے،
ٹیلی کام نیٹ ورکس کا کاربن فٹ پرنٹ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
- 2023 میں پاکستان کے بڑے نیٹ ورک آپریٹرز (Jazz، Zong، Telenor، Ufone) نے مجموعی طور پر تقریباً 1.1 ٹیرابن یونٹس بجلی استعمال کی۔
- ان میں سے 70 فیصد توانائی نیشنل گرڈ یا ڈیزل جنریشن کے ذریعے حاصل کی گئی۔
- نیٹ ورک ٹاورز (BTS sites) ملک بھر میں 47,000 سے زائد ہیں، جن میں سے تقریباً 18 ہزار اب بھی ڈیزل جنریٹرز پر چل رہے ہیں۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جہاں ڈیجیٹل ترقی ہو رہی ہے، وہیں توانائی کا زوال بھی اسی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔
5G کا نیا چیلنج ۔۔۔ رفتار بڑھی، اخراج بھی
پاکستان میں 5G متعارف کرانے کی تیاریوں کو ایک بڑی معاشی اور تکنیکی کامیابی سمجھا جا رہا ہے،
لیکن ماحولیاتی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ 5G نیٹ ورک،
پرانے 4G نیٹ ورک کے مقابلے میں تقریباً 2.5 گنا زیادہ بجلی استعمال کرتا ہے۔
ڈیٹا سینٹرز ۔۔۔۔ معلومات کے ساتھ کاربن کا بوجھ
ڈیجیٹل دنیا کا دل ڈیٹا سینٹرز ہیں۔ہر ای میل، واٹس ایپ میسج، یا یوٹیوب ویڈیو ان ہی سینٹرز کے ذریعے گزرتی ہے۔
پاکستان میں اب ایسے 18 بڑے ڈیٹا سینٹرز کام کر رہے ہیں جن میں سے زیادہ تر نجی ٹیلی کام کمپنیوں یا بینکنگ سیکٹر کے زیرِ انتظام ہیں۔
GSMAکی عالمی رپورٹ کے مطابق
- صرف ایک بڑے ڈیٹا سینٹر کا سالانہ بجلی بل100 ملین روپے سے زائد ہے۔
- اگر یہ بجلی فوسل فیول سے پیدا ہو تو اس کا کاربن اخراج 15,000 ٹن CO₂ سالانہ بنتا ہے۔
یہ وہ حصہ ہے جو اکثر “ڈیجیٹل ترقی” کے نعروں میں چھپ جاتا ہے۔
قابلِ تجدید توانائی کا سست سفر
ٹیلی کام انڈسٹری کے لیے سب سے بڑا چیلنج قابلِ تجدید توانائی (Renewable Energy) کی طرف منتقلی ہے۔
GSMA کی عالمی رپورٹ کے مطابق،
2023 میں قابلِ تجدید توانائی سے حاصل ہونے والی بجلی کا استعمال صرف 32 فیصد تھا،
جبکہ پاکستان میں یہ شرح 10 فیصد سے بھی کم ہے۔
Jazz اور Zong نے محدود پیمانے پر سولر پاور بیس اسٹیشنز لگانے کے منصوبے شروع کیے ہیں،
مگر یہ مجموعی نیٹ ورک کا صرف 5 فیصد احاطہ کرتے ہیں۔
باقی سارا نظام اب بھی ڈیزل، گیس، یا گرڈ بجلی پر انحصار کرتا ہے۔
حکومتی پالیسی اور غفلت
Climate Change Authority کے قیام کا نوٹیفکیشن تو 2024 میں جاری ہوا،
مگر اتھارٹی کے رولز اور فنڈز تاحال غیر واضح ہیں۔
اسی طرح “Green Telecom Policy” کا اعلان 2022 میں ہوا تھا،
مگر اس پر عمل درآمد کی کوئی فریم ورک رپورٹ اب تک سامنے نہیں آئی۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق، اگر حکومت نے کلائمیٹ رپورٹنگ کو لازمی نہ کیا تو
ٹیلی کام کمپنیاں اپنی توانائی کھپت کو “کاروباری راز” کے طور پر چھپاتی رہیں گی،
جس سے قومی کاربن انوینٹری ناقص رہے گی۔
ایک گھنٹے کی HD ویڈیو دیکھنے سے تقریباً 200 گرام CO₂ کا اخراج ہوتا ہے۔
پاکستان میں موبائل ڈیٹا کا استعمال سالانہ 35 فیصد بڑھ رہا ہے،
یعنی صارفین بھی بلاواسطہ توانائی کے دباؤ اور اخراج میں اضافہ کر رہے ہیں۔
ماہرین کی رائے
نیشنل یونیورسٹی اسلام آباد کی پروفیسراور ماحولیاتی ماہر ڈاکٹر طاہرہ فواد کہتی ہیں
"جب ہم ڈیجیٹل ترقی کی بات کرتے ہیں تو ہم توانائی کے دباؤ کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔پاکستان میں پہلے ہی توانائی کا بحران ہے اور اس بحران سے نمٹنے کےلئے کسی قسم کی کوئی پالیسی ترتیب نہییں دی جا رہی اور نہ ہی اس پر کسی کا فوکس ہے ۔حالانکہ پاکستان میں بجلی پہلے ہی قیمتی اور غیر پائیدار ذرائع سے حاصل ہو رہی ہے۔
اب اگر ہر ٹاور کو 24 گھنٹے آن رکھنا ہو تو یہ ترقی نہیں بلکہ ماحولیاتی خسارہ ہے۔”
ڈاکٹر عائشہ قریشی (نیشنل انرجی انسٹی ٹیوٹ) کے مطابق
“ڈیجیٹل ترقی کا راستہ پائیدار تب ہی ہے جب ٹیلی کام سیکٹر
قابلِ تجدید توانائی پر منتقل ہو اور حکومت ‘گرین نیٹ ورکنگ’ کو پالیسی سطح پر ترجیح دے۔”
اسی طرح PTCL کے ایک سینئر انجینئر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا
“کمپنیوں پر گرین انرجی اپنانے کا کوئی دباؤ نہیں۔
اخراج کا حساب یا رپورٹنگ ہماری پالیسیوں میں شامل ہی نہیں ہے۔”
کہ ڈیٹا اسٹریم ((یوٹیوب، نیٹ فلیکس، ٹک ٹاک ویڈیوز
ڈیجیٹل کاربن فٹ پرنٹ کا سب سے تیزی سے بڑھتا ہوا عنصر ہے۔
حل اور سفارشات
ماہرین کی آراء کو مدننظر رکھا جا ئے تو ذیل میں دئیے گئے کچھ اقدامات کو فوری طور پر نافذ کیاجانا چاہیے
- Green Telecom Framework کو فوری طور پر نافذ کیا جائے۔
- تمام ٹیلی کام آپریٹرز کے لیے کاربن اخراج رپورٹنگ لازمی کی جائے۔
- ہر بیس اسٹیشن میں کم از کم 30 فیصد قابلِ تجدید توانائی کا ہدف مقرر کیا جائے۔
- حکومت Green Skills Fund کے ذریعے
نیٹ ورک انجینئرز اور ٹیکنیکل اسٹاف کو کلائمیٹ فرینڈلی آپریشنز کی تربیت دے۔ - صارفین کے لیے ڈیجیٹل انرجی آگاہی مہمات چلائی جائیں ، تاکہ وہ کم توانائی والے ڈیٹا آپشنز استعمال کریں۔
،بےشک ڈیجیٹل ترقی پاکستان کے لیے ایک ضرورت ہےمگر یہ ترقی توانائی کی لاگت اور ماحولیاتی نقصان کے ساتھ جڑی رہی
تو یہ ترقی نہیں بلکہ ڈیجیٹل زوال بن جائے گی۔ہمیں اب یہ طے کرنا ہے کہ مستقبل میں پاکستان ڈیجیٹل انوویشن کی مثال بنے گا یا ماحولیاتی بوجھ کا مرکزبنے گا ۔