وسطی ایشیا میں آبی سفارتکاری کا نیا دور, ازبکستان IFAS کی قیادت سنبھالنے کو تیار

0

آستانہ میں انٹرنیشنل فنڈ فار سیونگ دی آرل سی (IFAS) کا آئندہ سربراہی اجلاس خطے میں آبی سفارتکاری کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہونے جا رہا ہے، جہاں ازبکستان 2027–2029 کے لیے تنظیم کی قیادت سنبھالنے کی تیاری کر رہا ہے۔

یہ ازبکستان کی تیسری بار IFAS کی سربراہی ہوگی، اس سے قبل وہ 1997–1999 اور 2013–2016 میں بھی یہ ذمہ داری ادا کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق، خطے میں پانی کے وسائل پر بڑھتے دباؤ کے پیش نظر یہ قیادت نہایت اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

ادارہ برائے اسٹریٹجک و علاقائی مطالعات کی سینئر ریسرچ فیلو لوبار عمراوا کے مطابق، موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ اور معاشی ترقی کے باعث ازبکستان کو پانی کے شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ گزشتہ 15 برسوں میں فی کس پانی کی دستیابی 3000 سے کم ہو کر 1400 مکعب میٹر رہ گئی ہے، جبکہ 1991 کے بعد مجموعی آبی وسائل میں 21 فیصد کمی آئی ہے۔

صدر شوکت مرزیایوف کی قیادت میں ملک نے پانی کے شعبے میں بڑی اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ پانی بچانے والی ٹیکنالوجی کا استعمال 28 ہزار ہیکٹر سے بڑھ کر 26 لاکھ ہیکٹر تک پہنچ چکا ہے، جو کہ زرعی زمین کا 60 فیصد بنتا ہے۔ 2030 تک ان اقدامات سے سالانہ 15 ارب مکعب میٹر پانی بچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

ڈیجیٹل نظام بھی ان اصلاحات کا اہم حصہ ہے، جس کے تحت 11 انفارمیشن سسٹمز، “اسمارٹ واٹر” مانیٹرنگ اور 100 سے زائد بڑے آبی منصوبوں کی خودکار نگرانی شامل ہے۔

علاقائی سطح پر بھی ازبکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر بحیرہ آرل کے ماحولیاتی تحفظ میں۔ مصنوعی جھیلوں اور شجرکاری کے ذریعے تقریباً 20 لاکھ ہیکٹر رقبے پر سبزہ اگایا جا چکا ہے، جسے عالمی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی اس خطے کو “ماحولیاتی جدت اور ٹیکنالوجی کا زون” قرار دیا ہے۔

ازبکستان نے قازقستان، کرغزستان اور تاجکستان کے ساتھ مشترکہ آبی منصوبوں پر تعاون کو فروغ دیا ہے، جبکہ افغانستان کے ساتھ بھی آبی وسائل کے منصفانہ استعمال کے لیے مکالمے کی حمایت کی جا رہی ہے۔

مستقبل کے لیے ازبکستان نے 2026–2036 کو “وسطی ایشیا میں پانی کے مؤثر استعمال کی دہائی” قرار دینے اور ایک علاقائی تربیتی مرکز قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

ماہرین کے مطابق، IFAS کی قیادت سنبھال کر ازبکستان خطے میں ماحولیاتی تحفظ، پانی کے پائیدار استعمال اور علاقائی استحکام کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.