پارلیمانی کاکس برائے حقوقِ اطفال اور ایس ایس ڈی او کا وفاقی بجٹ 2026-27 پر بچوں کے حقوق کے تناظر میں اعلیٰ سطحی بریفنگ کا انعقاد
قومی اسمبلی کی پارلیمانی کاکس برائے حقوقِ اطفال (PCCR) نے اپنی کنوینر ڈاکٹر نکہت شکیل خان، ایم این اے کی سربراہی میں، سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (SSDO) پاکستان کے تعاون سے ایک اعلیٰ سطحی بریفنگ سیشن کا انعقاد کیا۔ اس سیشن کا مقصد وفاقی بجٹ 2026-27 کا بچوں کے حقوق کے تناظر میں جائزہ لینا اور بچوں پر ہونے والی سرکاری سرمایہ کاری پر پارلیمانی نگرانی کو مضبوط بنانا تھا۔ ایس ایس ڈی او نے بچوں میں مزید سرمایہ کاری پر زور دیا کیونکہ موجودہ بجٹ میں بچوں کے حقوق کے لیے محدود وسائل مختص کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں ایس ایس ڈی او کی جانب سے تیار کردہ پالیسی بریف “وفاقی بجٹ 2026-27 میں بچے: بچوں کے حقوق کے تناظر میں ایک فوری تجزیہ” پر مبنی پریزنٹیشن پیش کی گئی، جو پاکستان میں بچوں کے لیے مختص بجٹ کا ایک جامع ابتدائی جائزہ فراہم کرتی ہے۔ تجزیے میں بتایا گیا کہ اگرچہ بچے ملک کی تقریباً نصف آبادی پر مشتمل ہیں، تاہم پاکستان میں ابھی تک بچوں کے لیے مختص اخراجات کی باقاعدہ نگرانی اور رپورٹنگ کا کوئی نظام موجود نہیں۔
بجٹ ماہر عامر اعجاز نے بجٹ کے تجزیے کا طریقہ کار بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اخراجات کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: بچوں کے لیے مخصوص (براہِ راست)، بچوں سے متعلق (بالواسطہ)، اور عمومی عوامی اخراجات، تاکہ پارلیمنٹیرینز بہتر انداز میں سمجھ سکیں کہ سرکاری وسائل بچوں کی بقا، ترقی، تحفظ اور شمولیت میں کس طرح کردار ادا کرتے ہیں۔
بریفنگ میں انکشاف کیا گیا کہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں تقریباً 106.5 ارب روپے بچوں کے لیے مخصوص اور 55.8 ارب روپے بچوں سے متعلق اخراجات کے طور پر مختص کیے گئے ہیں، جو تعلیم، صحت، غذائیت، بچوں کے تحفظ اور پانی و صفائی (WASH) جیسے شعبوں پر خرچ ہوں گے۔ اگر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کو بھی شامل کیا جائے تو بچوں سے متعلق کل اخراجات 914 ارب روپے بنتے ہیں۔ تاہم یہ مجموعی وفاقی بجٹ کا ایک محدود حصہ ہے، جو بچوں کے لیے مزید ہدفی اور شفاف سرمایہ کاری کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔
پریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ بچوں کے لیے مخصوص فنڈز کا بڑا حصہ تعلیم کے شعبے میں مرکوز ہے، جس میں وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور وزیر اعظم کے خصوصی اقدامات کے تحت ترقیاتی منصوبے شامل ہیں، خصوصاً پسماندہ علاقوں میں دانش اسکولز کے قیام کے لیے۔ اس کے علاوہ حفاظتی ٹیکہ جات، غذائیت، بچوں کے تحفظ کے اداروں اور صوبائی سطح پر صحت، تعلیم، پانی و صفائی اور آفات سے بحالی کے منصوبے بھی شامل ہیں، جو بالواسطہ طور پر لاکھوں بچوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔

اس کے بعد ایک تعاملی بحث ہوئی جس میں مختلف ارکانِ قومی اسمبلی بشمول شائستہ پرویز، فرح ناز اکبر، کرن عمران در، صبا صادق، زیب جعفر، آسیہ ناز تنولی اور کرن حیدر نے ایس ایس ڈی او کے نمائندوں عامر اعجاز، سید کوثر عباس (ایگزیکٹو ڈائریکٹر)، محمد شاہد خان (ڈائریکٹر پروگرامز) اور مریم جواد (ڈائریکٹر کوالٹی ایشورنس) کے ساتھ بجٹ کی مؤثریت، مساوات اور کفایت پر تبادلہ خیال کیا اور اہم پالیسی خلا کی نشاندہی کی۔
ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس نے زور دیا کہ بچوں کے لیے ذمہ دارانہ بجٹ سازی صرف مالیاتی عمل نہیں بلکہ بچوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن اور پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے تحت ایک بنیادی ذمہ داری ہے، جس کے لیے حکومت کو دستیاب وسائل کا زیادہ سے زیادہ مؤثر استعمال یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے مالیاتی نظام میں بچوں کے لیے بجٹ تجزیے کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دی جائے اور پارلیمانی نگرانی کو مضبوط بنایا جائے تاکہ بجٹ فیصلے شواہد پر مبنی ہوں اور بچوں کے بہترین مفاد کے مطابق ہوں۔
اجلاس کے اختتام پر پارلیمانی کاکس برائے حقوقِ اطفال اور ایس ایس ڈی او نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو فروغ دیں گے، بچوں سے متعلق اخراجات میں شفافیت اور جوابدہی کو بہتر بنائیں گے، اور پاکستان کے ہر بچے کے لیے ایک محفوظ، صحت مند اور خوشحال مستقبل کے لیے مزید سرمایہ کاری کی وکالت جاری رکھیں گے۔