پیٹرولیم لیوی کیخلاف احتجاج روکا گیا تو یہ حکومت گراؤ تحریک میں بدل جائیگا: حافظ نعیم الرحمان

0

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف جمعہ کو ملک بھر میں دھرنوں اور احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ 

لاہور میں خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ عوام پر مزید ظلم برداشت نہیں، پیٹرول 225 روپے لیٹر کیا جائے، جمعہ (کل)  ملک کے 510 مقامات پر پرامن دھرنے ہوں گے، کل صرف ایمبولینس کو راستہ ملے گا، رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو لیوی کے خلاف احتجاج حکومت گراؤ تحریک میں بدل دیا جائے گا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جمعہ کو شام 4 بجے لاکھوں افراد حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پر ہوں گے، تمام شہروں میں پرامن احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے ، پنجاب، بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں گے، نوجوان اپنی موٹر سائیکلیں سڑکوں پر لے کر آئیں اور انہیں بند کر دیں۔

انہوں نے بتایا کہ کل شاہراہ ریشم تا دیر، گوجرانوالہ، گجرات اور دیگر شہروں سمیت ملک بھر کی تمام اہم شاہراہیں بند کی جائیں گی اور حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جائے گا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ حکومت کو عوام کے مطالبات پورے کرنا ہوں گے، حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو حالات کی تمام تر ذمہ داری انہی پر عائد ہوگی، جماعت اسلامی احتجاج مکمل پرامن ہوگا۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی ٹیکس نہیں بلکہ بھتہ ہے جس سے ہر فرد شدید پریشان ہے، غریب آدمی سے ایک لیٹر پٹرول پر 125 روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، حکمران اپنی عیاشیاں ختم کرنے کے بجائے تمام بوجھ عوام پر ڈالتے ہیں اور خود اربوں کے جہاز اور کروڑوں کی گاڑیاں خرید رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں جنگی حالات کے دوران عالمی مارکیٹ کا بہانہ بنا کر قیمتیں بڑھائی گئیں، جنگ ختم ہونے کے بعد جب قیمت 74 ڈالر فی بیرل ہو گئی مگر پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پرانی سطح پر نہیں لائی گئیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا لیوی کی صورت میں اب تک 8 ہزار ارب روپے کا بھتہ وصول کیا جا چکا ہے لیکن ان میں سے ایک روپیہ بھی آئل ریفائنریز اور پٹرولیم انفراسٹرکچر کو بہتر کرنے کے لیے نہیں لگا، حکومت لیوی ختم کر دے تو معیشت ٹھیک ہو جائے گی۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اقتدار میں بیٹھے فارم 47 کے حکمرانوں کے پاس قوم کی لوٹی ہوئی دولت ہے، یہ عوام کا دکھ اور تکلیف نہیں سمجھ سکتے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف انتظامی یونٹس کا نہیں ہے پورا نظام ہی مفلوج ہے اور ایسے ماحول میں جبر کے خلاف آواز بلند کرنا ہر شخص کا دینی و قومی فرض ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.