علماء کرام کا عوامیِ صحت کے تحفظ کے لیے فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے نفاذ کا مطالبہ

0

علماء کرام، ماہرینِ صحت اور پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وزارت صحت کی دو سال سے زیر التوا سمری الٹرا پروسیسڈ غذاؤں اور مشروبات پر فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز فوری طور پر نافذ کیے جائیں تاکہ عوام، خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کو غیر صحت بخش غذائی انتخاب اور غیر متعدی بیماریوں (NCDs) کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ کانفرنس پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے زیرِ اہتمام اسلام آباد کے ہوٹل میں منعقد ہوئی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پناہ کے صدر میجر جنرل (ر) مسعود الرحمٰن کیانی نے کہا کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی وسیع تحقیق سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ واضح اور آسانی سے سمجھ آنے والے وارننگ لیبلز صارفین کو ایسی غذائی مصنوعات کی شناخت میں مدد دیتے ہیں جن میں چینی، نمک، غیر صحت بخش چکنائیاں اور کیلوریز زیادہ مقدار میں موجود ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چلی، میکسیکو، ارجنٹائن، پیرو اور یوراگوئے سمیت متعدد ممالک پیکٹ کے اگلے حصے پر لازمی وارننگ لیبلز کا نظام نافذ کر چکے ہیں۔ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں سے صارفین کے خریداری کے رویے پر مثبت اثر پڑتا ہے اور غذائی مصنوعات تیار کرنے والی صنعت کو اپنی مصنوعات کی غذائی ساخت بہتر بنانے کی ترغیب ملتی ہے۔

پناہ کے جنرل سیکریٹری جناب ثناء اللہ گھمن نے کہا کہ علماء کرام معاشرے میں انتہائی قابلِ احترام اور بااثر مقام رکھتے ہیں اور عوامی صحت کے تحفظ اور صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء کرام نے ماضی میں بھی پناہ کی صحتِ عامہ سے متعلق کاوشوں میں بھرپور تعاون کیا ہے اور ان کی رہنمائی اور آواز عوام، خاندانوں اور نوجوانوں میں صحت مند غذائی عادات کے فروغ میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
جناب ثناء اللہ گھمن نے علماء کرام سے اپیل کی کہ وہ غیر صحت بخش غذائی مصنوعات پر فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز (FOPWLs) کے نفاذ کے لیے زمہ داران تک اپنی آواز پہچا کر پناہ کی کوششوں کی حمایت کریں۔ انہوں نے کہا کہ واضح وارننگ لیبلز صارفین کو ایسی مصنوعات کی فوری شناخت میں مدد دے سکتے ہیں جن میں چینی، نمک اور غیر صحت بخش چکنائی کی مقدار زیادہ ہو، جس سے وہ باخبر غذائی انتخاب کر سکیں گے۔ انہوں نے علماء کرام پر زور دیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز، خطباتِ جمعہ اور سماجی و مذہبی اجتماعات کے ذریعے عوام کو صحت مند غذا کی اہمیت سے آگاہ کریں اور ایک صحت مند پاکستان کے لیے اجتماعی کردار ادا کریں۔
کانفرنس میں شریک علماء کرام نے عوامی صحت کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جان کا تحفظ اور نقصان سے بچاؤ اہم سماجی ذمہ داریاں ہیں۔ انہوں نے حکومت، مذہبی قیادت، سول سوسائٹی اور عوام پر زور دیا کہ وہ صحت مند غذائی ماحول کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں، بالخصوص بچوں اور خاندانوں کے تحفظ کو ترجیح دی جائے۔
کانفرنس کے شرکاء نے متفقہ طور پر ایک قرارداد پاس کر کے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں اور مشروبات پر لازمی FOPWLs کے ضوابط کو مزید تاخیر کے بغیر فوری طور پر نافذ کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وارننگ لیبلز نمایاں، سادہ، واضح اور سائنسی شواہد پر مبنی ہوں، تاکہ صارفین ایسی مصنوعات کی فوری شناخت کر سکیں جن میں صحت کے لیے اہم غذائی اجزاء، خصوصاً چینی، نمک اور غیر صحت بخش چکنائی کی مقدار زیادہ ہو۔
شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی صحت کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فیصلہ کن اقدامات کرتے ہوئے پاکستان میں لازمی فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز (FOPWLs) کے نفاذ کو یقینی بنائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.