خیبرپختونخوا میں سیاحت اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے بڑے منصوبے منظور
ورلڈ بینک کے KITE پروگرام کے تحت عجائب گھروں کی اپگریڈیشن، تاریخی مقامات کی بحالی، اور سیاحتی انفراسٹرکچر میں بہتری پر اربوں روپے خرچ کیے جائیں گے
پشاور: وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین گنڈا پور اور مشیر برائے سیاحت و آثار قدیمہ زاہد خان شنواری نے ورلڈ بینک کے تعاون سے خیبرپختونخوا میں سیاحت کے فروغ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے اہم منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔
یہ منصوبے خیبرپختونخوا انٹیگریٹڈ ٹورزم پراجیکٹ (KITE) کے تحت عمل میں لائے جائیں گے۔
محکمہ سیاحت کے ترجمان کے مطابق ان منصوبوں میں مختلف عجائب گھروں کی 29 کروڑ 50 لاکھ روپے کی لاگت سے اپگریڈیشن، ضلع صوابی میں بابو ڈھیری کے تحفظ و ترقی کے لیے 4 کروڑ 50 لاکھ روپے، پشاور میں دلیپ کمار اور راج کپور کے تاریخی گھروں کی بحالی کے لیے 3 کروڑ 38 لاکھ روپے، اور ضلع بونیر میں رانی گھاٹ کی خوبصورتی اور تزئین و آرائش کے لیے 4 کروڑ روپے شامل ہیں۔
دیگر منصوبوں میں تخت بھائی (ضلع مردان) کے آثار قدیمہ کے مقام پر جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے 3 کروڑ روپے، صوبے کے اہم آثار قدیمہ مقامات پر سیکیورٹی و سیفٹی اقدامات کے لیے 22 کروڑ 5 لاکھ 90 ہزار روپے، مانسہرہ میں گلی باغ کی ترقی کے لیے 3 کروڑ 50 لاکھ روپے، کوہِ سلیمان (ڈیرہ اسماعیل خان) میں سیاحتی مقام کی بہتری کے لیے 15 کروڑ 50 لاکھ روپے، اور شیخ بدین مقام (ڈیرہ اسماعیل خان) کی بحالی کے لیے 19 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ان منصوبوں کا بنیادی مقصد صوبے کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کا تحفظ اور ورثہ سیاحت کو فروغ دینا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف مقامی سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ سردار علی امین گنڈا پور نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا ثقافتی ورثہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے اہمیت رکھتا ہے، اور حکومت کی اولین ترجیح اس کا تحفظ اور سیاحت کے ذریعے معاشی ترقی ہے۔
مشیر سیاحت زاہد خان شنواری نے کہا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے یہ منصوبے خیبرپختونخوا میں سیاحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلی لائیں گے۔ ہمارا ہدف ہے کہ صوبے کے خوبصورت ثقافتی مقامات کو عالمی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنایا جائے۔
یہ منصوبے جلد شروع کیے جائیں گے تاکہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔