سیاست، بیانیہ اور حقیقت، ایک موت کا متنازعہ استحصال
خیبر پختونخواہ حکومت نے ایک کروڑ شہدا پیکج تو دے دیا مگر یہ جاننا گوارا نہ کیا کہ موت کی اصل وجہ کیا ہے
رپورٹ: شکیلہ جلیل
shakila.jalil01@gmail.com
26نومبر 2024کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا جلسہ ہوا اور ختم ہو گیا مگر اسلام آباد کی فضائوں میں ایک نعرے کی گونچ چھوڑ گیا اور وہ نعرہ تھا کہ ّّریاستی اداروں کی طرف سے ہمارے ورکرز کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا گیا اور ہمارے کارکنوں کو بے رحمی سے زخمی اور شہید کیا گیا جس کا ہم حساب لیں گے ۔
قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان ہر جلسے جلوس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی جس کا نام بار بار لے رہے تھے وہ نام تھا عمران عباسی ۔جس کا تعلق انہی کے حلقہ انتخاب سےتھا
مگر کیا واقعی وہ "ریاستی ظلم” کا نشانہ بنا تھا؟یا پھر وہ ایک ایسی کہانی کا کردار بن چکا تھا، جس میں حقیقت کو دفن کر کے بیانیہ کھڑا کیا گیا تھا؟ اس کی موت کی حقیقت کچھ اور تھی۔کیونکہ جب احتجاجی ہجوم میں اٹھنے والے ان نعروں کے پیچھے کی حقیقت کی پرتیں ہٹائی گئیں، تو ایک کہانی سامنے آئی جو سیاست کے تاریک چہروں کو بے نقاب کرتی ہے۔
پس منظر:سیاست کے شعلوں میں سلگتی سچائی
یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں ہوا جب ملک میں سیاسی کشیدگی عروج پر تھی۔ملک اس وقت ایک سیاسی بھنور میں گھرا ہوا تھا۔ پی ٹی آئی کے رہنمائوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے کئی کارکن ،پولیس اور رینجرز کی کارروائیوں میں شہید ہو گئے۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں نے دعویٰ کیا کہ انکے20 سے 280 تک کارکنا ن شہید کئے گئے ، یہ ایک بہت بڑی تعداد تھی وفاقی دارلحکومت میں اتنی بڑی تعداد میں پولیس یا رینجرز کے ہاتھوں اتنے لوگوں کی ہلاکت چھپ نہیں سکتی تھی ۔اس لئے اس دعوے کو حکومت کے ساتھ ساتھ عوام نے بھی رد کر دیا اور حکومت نے ان دعوئوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ دوران احتجاج سیکیورٹی اداروں کی طرف سے کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔اسلام آباد کے ہسپتالوں کا کہنا تھا کہ صرف تین ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ پی ٹی آئی کے کچھ اراکین اسمبلی نے بھی اسمبلی کے فلور پر 12 کارکنوں کی ہلاکت کا ذکر کیا۔لیکن جب ان دعوئوں کی تہہ میں جا کر حقائق کی چھان بین کی گئی، تو ایک ایسی کہانی سامنے آئی جس نے کئی سوالات کو جنم دیا۔
ڈی چوک ِ: احتجاج یا تصادم؟
یاد رہے کہ اس دن ایک طرف جی ایچ کیو حملہ کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت 120 ملزمان پر فرد جرم عائد ہونی تھی جو کہ اس جلسے کی وجہ سے موخر کردی گئی ۔اور دوسری طرف بیلاروس کے صدر الیگزینڈرلوکاشینکو تین روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے تھے ،اسی دورے کی وجہ سے حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں سے درخواست کی تھی کہ فی الحال اس جلسے کو موخر کردیں، اس موقع پرپاکستان اور بیلا روس کے درمیان مختلف شعبہ جات میں تعاون کیلئے 15مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط اور معاہدوں کا تبادلہ ہوا،اور بیلاروس کے صدر الیگزینڈرلوکاشینکونے تقریر کرتے ہوئے باور کرایا کہ بعض بڑی طاقتیں پاکستان کی ترقی سے خوش نہیں، وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو متحد ہوتی ہیں۔
کیس اسٹڈی
عمران خان عباسی کی موت 25 نومبر 2024 کی ایک خنک صبح ، احتجاج سے ایک دن پہلے، اسلام آباد کے تھانہ گولڑہ کی حدود میں ہوئی جہاں فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا۔ ابتدائی پولیس رپورٹ(FIR نمبر 599/24) کے مطابق، مقتول کی لاش صبح سات بج کر 25 منٹ پر سیکٹر E-12 کے نسوار چوک کے قریب ملی، جس کے سینے پر بائیں کندھے کے نیچے فائر کا نشان تھا۔ لاش کی فوری شناخت نہ ہو سکی اور پوسٹ مارٹم کے لیے پمز اسپتال منتقل کر دی گئی۔مقامی پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، یہ واقعہ ڈکیتی کا نتیجہ تھا۔چند دن بعد، مورخہ 28 نومبر کو مقتول کے بھائی، محمد ظہور عباسی (چیئرمین وی سی ہلی، ہری پور اور جنرل سیکریٹری پی ٹی آئی تحصیل خانپور) نے عمران عباسی کی شناخت کی اور لاش وصول کی۔
تحقیقات: اصل حقیقت کیا نکلی؟
پولیس کی تفتیش کے مطابق، عمران خان عباسی کو دو افغان شہریوں گل رحمان اور شیر علی نے موبائل فون چھیننے کی کوشش کے دوران قتل کیا۔جنہوں نے اعتراف جرم بھی کیا اور انہی ملزمان سے مقتول کا موبائل فون اور قتل میں استعمال ہونے والا پستول برآمد کر لیا گیا۔مزید تحقیقات میں پولیس نے دو افغان نژاد ڈاکوگل رحمان اور شیر علی کو گرفتار کیا، جنہوں نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ انہوں نے موبائل چھیننے کی کوشش کے دوران مزاحمت پر عمران عباسی کو گولی مار کر قتل کیا تھا۔ قتل میں استعمال ہونے والا 30 بور پستول اور مقتول کا موبائل فون بھی برآمد ہوا۔ قاتلوں کے اقبالی بیانات 8 جنوری 2025 کو مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ ہوئے۔دونوں ملزمان نے مجسٹریٹ کے سامنے اقبالِ جرم بھی کیا۔یوں دونوں ملزمان کو جنوری 2025 میں جیل بھیج دیا گیا۔
حقیقت کو بیانیہ بنانے کی کوشش اور کروڑوں کی امداد
مقتول کے بھائی، محمد ظہور عباسی، جو پی ٹی آئی کا تحصیل خانپور کا جنرل سیکریٹری ہے، نے اپنے بھائی کی موت کو ایک سیاسی شہادت کا رنگ دے دیا۔اس نے جھوٹے دعووں کے ذریعے مقتول کو بلیو ایریا فائرنگ کیس کا ”شہید”ظاہر کرایا اور خیبرپختونخوا حکومت سے ایک کروڑ روپے بطور شہدا پیکج وصول کر لیے۔14 دسمبر 2024 کو اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان اور خیبرپختونخوا کے وزیر بلدیات ارشد ایوب خان نے باضابطہ طور پر ایک کروڑ روپے کا چیک محمد ظہور عباسی کے گھر جا کردیا ، اور سوشل میڈیا پر بھی مقتول کو "ریاستی تشدد” کا شکار قرار دے کر پیش کیا گیا۔
محمد ظہور عباسی اپنے بھائی کی موت کے بارے میں کیا کہتا ہے
جب پاکستان پیج کی ٹیم نے مقتول عمران عباسی کے بھائی محمد ظہور عباسی سے رابطہ کیا اور اس حوالے سے موقف دینے کا کہا تو انہوں نے پہلے پہل تو کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی اختیار کئے رکھی مگر جب پاکستان پیج پر خبر لگی تو انہوں نے ازخود پاکستان پیج سے رابطہ کیا اور موقف دیتے ہو ئے کہا کہ انکے بھائی پاکستان تحریک انصاف کے سرگرم کارکن تھے اور 26نومبر 2024 کو انہوں نے چھبیس نمبر چونگی سے جلسے میں شامل ہوئے اور پھر انہیں ڈی چوک میں شہید کر دیا گیا ۔
ایک قتل، کئی بیانئیے
تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ مقتول کے خلاف کوئی حالیہ ریاستی کارروائی درج نہیں تھی اور اس کی موت کا عسکری اداروں سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ۔
:حقیقت کا سیاسی رنگ
مقتول کا بھائی محمد ظہور عباسی، سیاسی وابستگی کو استعمال کرتے ہوئے، اپنے بھائی کی موت کو ریاستی اداروں کی کارروائی قرار دینے لگا۔ عمران عباسی کا نام 26 نومبر کے بلیو ایریا احتجاج میں فائرنگ کے ہلاک شدگان کی فہرست میں شامل کرا دیا گیا۔نتیجتا خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے 12 ورکرز کی "شہدا” لسٹ میں عمران عباسی کی تصویر اور نام شامل کر دیے گئے۔اسی بنیاد پر 14 دسمبر 2024 کو، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان اور صوبائی وزیر بلدیات ارشد ایوب خان نے ایک تقریب میں محمد ظہور عباسی کے گھر ایک کروڑ روپے کا چیک پیش کیا۔ یہ رقم خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے "شہدا پیکج” کے تحت دی گئی تھی۔حقیقت مگر یہ تھی کہ عمران عباسی کی موت احتجاجی سرگرمی یا ریاستی کارروائی کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ ایک عام جرم یعنی موبائل چھیننے کی واردات میں ہوئی تھی۔
سیاسی حکمت عملی یا اتفاق؟
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ احتجاجی تحریکوں میں شہدا کی علامتیں بیانیہ سازی کا موثر ہتھیار بن جاتی ہیں۔ ایک مظلوم چہرہ، ایک جذباتی کہانی اور ایک واضح دشمن یہ عناصر سیاسی مقاصد کو تقویت دیتے ہیں، چاہے حقیقت کچھ بھی ہو۔
حقائق بمقابلہ بیانیہ
عمران عباسی کی المناک موت نے ملک میں ایک بڑا سوال اٹھا دیا!کیا سیاسی بیانیے کے لیے کسی فرد کی موت کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا جائز ہے؟یہ واقعہ محض ایک انفرادی غلط بیانی نہیں بلکہ ایک بڑے المیے کی طرف اشارہ کرتا ہے:کہ کس طرح سیاست میں حقائق کو مسخ کر کے عوامی جذبات کو ہموار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔”جب عوامی جذبات بھڑکانے کے لیے نامکمل یا مسخ شدہ کہانیاں استعمال کی جاتی ہیں، تو اس کا نقصان سب سے پہلے ملک کو ہوتا ہے، کیونکہ سچائی کی قدر پسِ پشت چلی جاتی ہے۔
ایک بے وقت موت کا المیہ
ایک مقتول جو ڈکیتی کی بھینٹ چڑھا، سیاسی چال کا مہرہ بن چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب حقیقت اور بیانیہ ایک دوسرے کے مقابل ہوں، تو عوام کسے سچ مانے؟اور کیا سیاست میں سچ کی کوئی جگہ بچی ہے؟
سیاست میں استحصال
یہ واقعہ پاکستان کی حالیہ سیاست کا ایک افسوسناک چہرہ سامنے لاتا ہے، جہاں جذباتی بیانیہ، حقیقت کو پس پشت ڈال کر اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ایک انفرادی المیے کو ریاستی جبر کی علامت بنا کر پیش کرنا نہ صرف عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے بلکہ مظلومیت کی اصل کہانیوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا سیاست میں سچائی کی کوئی جگہ رہ گئی ہے؟یا پھر بیانیہ جیتتا ہے اور حقیقت دم توڑ دیتی ہے؟
سیاست میں حقیقت کس قدر آسانی سے مسخ کی جا سکتی ہے۔جہاں ایک ماں اپنے بیٹے کے لیے رو رہی ہو، وہاں کوئی سیاستدان اس کے نام پر ووٹ مانگ رہا ہوتا ہے۔جہاں ایک بیوی شوہر کےلئے انصافڈھونڈے، وہاں کوئی وزیر اس کی لاش پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کر رہا ہوتا ہے۔اور سچ، ہمیشہ کہیں پیچھے دب جاتا ہے، یہ سیاسی موقع پرستی تھی ایک سانحہ کو اپنی حکمت عملی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش۔یہ کہانی محض ایک واقعہ کی نہیں، بلکہ ایک پورے بیانیے کی عکاسی ہے۔
نوٹ : خیبر پختونخواہ کی دی گئی ایک کروڑ کی امداد کس نے استعمال کی اور مقتول عمران عباسی کی بیوہ اور بچے کیسی زندگی گزار رہے اس حوالے سے سٹوری جلد پاکستان پیج پر ۔۔
Good 👍👍
Excellent Report
An example of professionalism