پاکستان کو دوبارہ شفافیت کے عالمی فورم کا حصہ بنایا جائے، ایس ایس ڈی او کا حکومت سے مطالبہ
اوپن گورنمنٹ پارٹنرشپ میں شمولیت کی بحالی سے بین الاقوامی ساکھ بہتر ہو گی اور قومی ادارے شفاف ہوں گے ۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس
اسلام آباد : سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن ( SSDO) نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہ کہ وہ اوپن گورنمنٹ پارٹنرشپ (OGP) میں پاکستان کی رکنیت بحال کرنے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے تاکہ ملک میں شفافیت، احتساب اور عوامی شمولیت کو فروغ دیا جا سکے۔
ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس نے کہا ہے کہ پاکستان کی او جی پی سے رکنیت ختم ہونا قومی مفاد کے خلاف ہے، کیونکہ یہ عالمی فورم حکومتوں کو بہتر طرز حکمرانی اور شہری شمولیت کے عمل میں معاونت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی رکنیت سابق حکومت کے دور (2018 تا 2022) میں صرف اس وجہ سے ختم ہوئی کہ مقررہ وقت میں نیا قومی ایکشن پلان جمع نہ کرایا جا سکا۔
سید کوثر عباس نے کہا کہ پاکستان نے 2016 میں مسلم لیگ (ن) کے دور میں او جی پی میں شمولیت اختیار کی، قومی خزانے سے 25,000 ڈالر فیس بھی ادا کی گئی اور عوامی شمولیت سے پالیسی سازی کا عزم ظاہر کیا گیا۔ ابتدائی اقدامات امید افزا تھے، لیکن پھر مجرمانہ غفلت سے یہ موقع ضائع کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ او جی پی کی رکنیت کی بحالی سے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بہتر ہو گی بلکہ ملکی ادارے شفافیت اور جوابدہی کی جانب بڑھیں گے اور عوام کو پالیسی سازی میں شامل ہونے کے مواقع میسر آئیں گے۔
ایس ایس ڈی او نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر کسی مرکزی وزارت کو اس عمل کا فوکل پوائنٹ مقرر کیا جائے اور سول سوسائٹی سے مشاورت کے ساتھ ایک جامع اور مؤثر قومی ایکشن پلان تیار کیا جائے تاکہ پاکستان دوبارہ او جی پی کا فعال رکن بن سکے۔