اسلام آباد، : سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ملک میں میوچوئل فنڈز انڈسٹری کو مضبوط اور جدید بنانے کے لیے کئی کلیدی اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں میوچوئل فنڈز ایسوسی ایشن آف پاکستان (MUFP) کو ایک خودمختار نگران ادارے کے طور پر رجسٹر کرنا، ڈیجیٹل ایسٹ مینجمنٹ کمپنیز (AMCs) کے لیے مکمل فریم ورک کی منظوری دینا، اور پاکستان میں ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs) کی ترقی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام شامل ہیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق ان اقدامات کا بنیادی مقصد سرمایہ کاری کے شعبے میں شفافیت کو فروغ دینا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا، مالی شمولیت کو بڑھانا، اور میوچوئل فنڈز انڈسٹری کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا ہے۔
ایس آر او کے طور پر رجسٹر ہونے کے بعد، ایم یو ایف اے پی اب میوچوئل فنڈز کے شعبے میں خود احتسابی کا کردار ادا کرے گا۔ یہ ادارہ اب اخلاقی اصولوں کے فروغ، تحقیق و ترقی، انڈسٹری کے لیے اصول و ضوابط کی تیاری، انسپکشن اور نگرانی، تنازعات کے حل، اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کے اقدامات میں بھی شامل ہوگا۔
مزید برآں، ایم یو ایف اے پی بنیادی قانونی دستاویزات جیسے ٹرسٹ ڈیڈز اور آفرنگ ڈاکومنٹس کا جائزہ لے گا اور انڈسٹری کے لیے رپورٹنگ کا یکساں اور معیاری نظام متعارف کرائے گا، تاکہ سرمایہ کاری کا ماحول مزید شفاف، فعال اور سرمایہ کار دوست بنایا جا سکے۔
ڈیجیٹل اے ایم سی فریم ورک کے نفاذ سے سرمایہ کاری کے عمل میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ ملے گا۔ یہ فریم ورک عام سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع کو آسان بنائے گا، داخلے کی رکاوٹوں کو کم کرے گا، اور مکمل طور پر ڈیجیٹل سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کرے گا۔
ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز کی ترقی کے لیے بنائی گئی کمیٹی کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ موجودہ قوانین کا تجزیہ کرے، بین الاقوامی بہترین روایات کا جائزہ لے، اور ایسی اصلاحات تجویز کرے جو سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں اور اس شعبے کی ترقی کو تیز کریں۔
ایس ای سی پی نے حال ہی میں میوچوئل فنڈز انڈسٹری فوکس گروپ سیشن بھی منعقد کیا، جس میں ماہرین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ اس سیشن میں انفراسٹرکچر فنانسنگ، لیکویڈیٹی مینجمنٹ، گورننس میں بہتری، اور تقسیم کے نظام کو جدید بنانے سے متعلق تجاویز پر بات چیت ہوئی۔ خواتین کی مالی شمولیت میں حائل رکاوٹوں اور "سسٹیمیٹک انویسٹمنٹ پلانز” (SIPs) کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس سیشن کی سفارشات پر مبنی ایک وائٹ پیپر تیار کیا گیا ہے، جس کی اشاعت کی منظوری کمیشن نے دے دی ہے۔ یہ اقدامات پاکستان میں میوچوئل فنڈز کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی طرف ایک اہم پیش رفت ہیں۔