بلوچستان و خیبر پختونخوا میں صنفی تشدد کی لرزہ خیز صورتحال بے نقاب

ایس ایس ڈی او کی رپورٹ میں 2024 کے دوران درجنوں ریپ، اغوا، غیرت کے نام پر قتل اور گھریلو تشدد کے کیسز رپورٹ، لیکن سزا صرف ایک کیس میں؛ ریاستی ناکامی پر سوالات کھڑے۔

0

اسلام آباد : سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن ( SSDO ) نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں صنفی بنیاد پر تشدد سے متعلق ضلعی سطح کی ایک تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں سال 2024 کے دوران پیش آنے والے ریپ، اغوا، غیرت کے نام پر قتل اور گھریلو تشدد جیسے جرائم کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 21 ریپ، 185 اغوا، 32 غیرت کے نام پر قتل اور 160 گھریلو تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے، لیکن کسی ایک کیس میں بھی مجرم کو سزا نہیں دی گئی۔ خیبر پختونخوا میں بھی صورتحال مختلف نہ رہی، جہاں 258 ریپ، 943 اغوا، 134 غیرت کے نام پر قتل، اور 446 گھریلو تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے، تاہم صرف ایک کیس میں سزا دی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے اضلاع نصیرآباد، صحبت پور اور کوئٹہ، جب کہ خیبر پختونخوا کے اضلاع سوات، اپر کوہستان اور مانسہرہ کو سب سے زیادہ حساس قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دیہی اور قبائلی علاقوں میں متاثرین کی جانب سے رپورٹ نہ کرنا، انصاف تک رسائی کا فقدان، اور ریاستی اداروں کی کمزور موجودگی، اس المیہ کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس نے رپورٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سینکڑوں کیسز درج ہونے کے باوجود مجرموں کو سزا نہ ملنا ایک لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر صنفی جرائم کے لیے مخصوص کرائسس سینٹرز، خواتین پولیس یونٹس، اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے صوبائی سطح پر مشاہداتی مراکز قائم کیے جائیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ضلعی سطح کا یہ تجزیہ حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پالیسی سازوں کو موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ خطرناک علاقوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ٹھوس اور عملی اقدامات کریں تاکہ متاثرہ خواتین اور خاندانوں کو انصاف مل سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.