قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا بڑا فیصلہ، مقدمات نمٹانے کے لیے ٹائم فریم مقرر

وراثت، پبلک ریونیو اور رقوم کے تنازعات 12 ماہ میں، جائیداد اور قتل کے مقدمات 24 ماہ میں نمٹانے کا فیصلہ، وفاقی حکومت کا 2 ارب روپے گرانٹ کا اعلان۔

0

اسلام آباد:چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں مختلف نوعیت کے مقدمات نمٹانے کے لیے ٹائم فریم طے کیا گیا۔ اجلاس میں تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے شرکت کی۔

اعلامیے کے مطابق جائیداد کے تنازعات کے مقدمات 24 ماہ، وراثت، پبلک ریونیو اور رقوم کے تنازعات 12 ماہ، کرایہ داری اور فیملی کیسز 6 ماہ میں نمٹائے جائیں گے۔ بینکنگ کورٹ ڈگری کے مقدمات کی مدت 12 ماہ، کم عمر ملزمان کے فوج داری مقدمات 6 ماہ، سات سال تک کی سزا والے کیسز 12 ماہ اور سات سال سے زائد سزا والے مقدمات 18 ماہ میں نمٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ قتل کے مقدمات نمٹانے کی مدت 24 ماہ مقرر کی گئی جبکہ لیبر کیسز بھی 6 ماہ میں نمٹانے کا ٹائم فریم طے ہوا۔

اجلاس میں زیر حراست ملزم کو 24 گھنٹوں میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے جامع میکنزم پر بھی بات چیت ہوئی اور فیصلہ ہوا کہ اٹارنی جنرل اس پر اگلے اجلاس میں جامع سفارشات پیش کریں گے۔

اجلاس میں عدالتی امور میں بیرونی مداخلت کی شکایات پر 24 گھنٹوں میں رپورٹ اور 14 روز میں ایکشن کا فیصلہ کیا گیا جبکہ ہائیکورٹس کو ایس او پیز نوٹیفائی کرکے شیئر کرنے کی ہدایت کی گئی۔

دوسری جانب چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت انصاف تک رسائی ڈویلپمنٹ فنڈ کا اجلاس ہوا۔ وفاقی حکومت نے اس فنڈ کے لیے 2 ارب روپے گرانٹ کا اعلان کیا۔

اعلامیے کے مطابق سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹس کے خواتین سہولت منصوبوں کے لیے 63 کروڑ 15 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی، جبکہ سندھ، لاہور، بلوچستان اور پشاور ہائیکورٹس کے لیے 31 کروڑ 70 لاکھ روپے کے منصوبے بھی منظور ہوئے۔

مزید برآں پسماندہ اضلاع کی عدالتوں میں سولرائزیشن اور ای لائبریری منصوبوں کی بھی منظوری دی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مستحق سائلین کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں مفت قانونی معاونت فراہم کی جائے گی اور انصاف تک پائیدار و شمولیتی رسائی یقینی بنائی جائے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.