بہار کے وزیرِ اعلیٰ کا طرزِ عمل بھارت میں اقلیتوں کے حقوق پر سوالیہ نشان ہے،قدسیہ ناموس

0

ناظمۂ حلقہ خواتین جماعت اسلامی اسلام آباد قدسیہ ناموس نے کہا ہے کہ بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک سرکاری تقریب میں مسلمان خاتون ڈاکٹر کے حجاب کے ساتھ ناروا سلوک نہ صرف اس فرد کے وقار کی خلاف ورزی ہے بلکہ بھارت میں مسلمانوں کے لیے مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی مسلسل پامالی کی کھلی مثال ہے۔

قدسیہ ناموس نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کے لیے مذہبی آزادی محض کاغذوں تک محدود ہے اور اقلیتوں کے تحفظ کے دعوے حقیقت میں برقرار نہیں ہیں۔ سرکاری عہدہ رکھنے والے افراد کا کسی مسلمان خاتون کے مذہبی لباس یا شناخت میں مداخلت کرنا طاقت کے غلط استعمال اور متعصبانہ رویے کا واضح ثبوت ہے، جو اقلیتوں کے تحفظ کے فقدان کو مزید نمایاں کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حجاب مسلمان عورت کے لیے صرف لباس نہیں بلکہ اس کا دینی حق، ذاتی انتخاب اور وقار کی علامت ہے، جس میں مداخلت کسی بھی جمہوری یا مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔

قدسیہ ناموس نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی ضمیر سے سوال کیا کہ کیا اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت صرف کاغذی دعوے تک محدود رہیں گے، یا واقعی ایسے واقعات کے خلاف کارروائی کی جائے گی؟

ناظمۂ حلقہ خواتین جماعت اسلامی اسلام آباد نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلی نہ صرف معافی مانگیں بلکہ اپنے عہدے سے استعفا بھی دیں ۔بھارت میں اقلیتوں کے بنیادی حقوق اور مذہبی آزادی کو یقینی بنایا جائے اور سرکاری عہدے مذہبی تعصب کے اظہار کا ذریعہ نہ بنیں۔#

Leave A Reply

Your email address will not be published.